متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں میٹرک میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات، نقد انعام اور تعریفی خطوط سے حوصلہ افزائی

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں میٹرک میں نمایاں نمبر حاصل کرنے والے طلباء و طالبات نے یو اے ای کے صدر اور دبئی کے حکمران سے ملاقات کے بعد اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کے اہم ترین لمحات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ امتحانی نتائج کے فوری بعد ان طلباء کو یو اے ای کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کا موقع ملا، جو صرف رسمی تقریب نہیں بلکہ قومی سطح پر ان کی کامیابی کا اعتراف بھی تھا۔

وہ طلباء جنہوں نے 98 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے، انہیں صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہر طالبعلم کو نقد انعام اور دبئی کے حکمران کی جانب سے تعریفی خط بھی دیا گیا۔

خدمت کا عزم

99.5 فیصد نمبر لینے والی اپلائیڈ ٹیکنالوجی ہائی اسکول کی طالبہ راوضہ یعقوب المنصوری نے اس ملاقات کو ناقابل فراموش لمحہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا: "ایسا محسوس ہوا جیسے اپنے والد سے ملاقات ہو رہی ہو۔ ان کے الفاظ میں شفقت اور دانش تھی۔ یہ صرف ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ میری محنت کا سب سے بڑا انعام تھا۔”

راوضہ نے بتایا کہ اس تجربے نے انہیں اپنی قوم کی خدمت کے لیے زیادہ پختہ عزم عطا کیا۔ "ہم اکثر انہیں صرف ٹی وی پر دیکھتے ہیں، مگر بالمشافہ ملاقات کا احساس مختلف ہوتا ہے۔ میں اس ملاقات کے بعد زیادہ ذمہ دار اور بالغ محسوس کر رہی ہوں۔”

’ہم تم پر اعتماد کرتے ہیں‘

المنہل انٹرنیشنل پرائیویٹ اسکول ابوظبی کے طالبعلم عبداللہ سامر حمادہ، جنہوں نے 99.86 فیصد نمبر حاصل کیے، نے بتایا کہ شیخ محمد بن راشد نے کہا: "آگے بڑھتے رہو، ہم تم پر اعتماد کرتے ہیں۔” یہ الفاظ ان کے دل میں نقش ہو گئے ہیں۔

جب عبداللہ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، تو صدر یو اے ای نے فوری طور پر انہیں محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں اسکالرشپ کی پیشکش کی۔ ساتھ ہی انہیں ایک میک بک پرو اور خلیفہ یونیورسٹی سے ایک اضافی اسکالرشپ بھی ملی۔

انہوں نے کہا: "یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ میری ہر رات کی جاگتی ہوئی محنت رائیگاں نہیں گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ یو اے ای وژن 2031 میں ایک نمایاں کردار ادا کروں۔”

مقصد کا احساس

دبئی کے الشروق پرائیویٹ اسکول کی طالبہ حبیبہ یاسر قدیح، جنہوں نے 98.79 فیصد نمبر لیے، نے بتایا کہ وہ اپنی پوزیشن دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
"مجھے اندازہ تھا کہ میں نے محنت کی ہے، لیکن میرے ارد گرد بھی بہت محنتی طلباء تھے، اس لیے توقع نہیں تھی۔”

حبیبہ نے نفسیات کے شعبے میں تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور کہا: "سب سے قیمتی تحفہ ان عظیم رہنماؤں سے ملاقات کا اعزاز تھا۔ اس تجربے نے مجھے اپنے شعبے کے انتخاب پر نیا اعتماد اور مقصد بخشا۔”

بامعنی ملاقات

الظہرہ اسکول دبئی کی موزہ سیف المہری، جنہوں نے 99 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے، نے اپنی کامیابی کا راز نظم و ضبط اور مستقل مطالعے کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا: "میں نے کبھی آخری لمحے پر چیزیں نہیں چھوڑیں۔ آرام کا وقت بھی رکھا، لیکن ہمیشہ اپنے منصوبے پر قائم رہی۔ یہی سب سے بڑا فرق تھا۔”

موزہ نے صدر یو اے ای، دبئی کے حکمران، شیخ عبداللہ بن زاید اور راس الخیمہ کے حکمران شیخ سعود بن صقر القاسمی سمیت چار اعلیٰ شخصیات سے بالمشافہ ملاقات کی۔
انہوں نے کہا: "ہر ملاقات نے میرے شعور، شکرگزاری اور عزم کو مزید گہرا کیا کہ میں اپنے ملک کو کچھ لوٹاؤں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button