
خلیج اردو
ابوظہبی – ابوظہبی کی ایک عدالت نے ایک سابق ٹیکسی ڈرائیور کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ کمپنی کو 51,450 درہم ادا کرے۔ یہ رقم کمپنی نے اس کے سرخ بتی توڑنے کے ٹریفک جرمانے اور دیگر متعلقہ اخراجات کی مد میں ادا کی تھی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، کمپنی نے ابوظہبی لیبر کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ ڈرائیور نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی، جبکہ کمپنی نے اس پر عائد جرمانے اور دیگر اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے، جس کی ادائیگی سابق ملازم سے ابھی تک وصول نہیں کی جا سکی۔
مقامی اخبار الخلیج کی رپورٹ کے مطابق، ڈرائیور کو سرخ بتی توڑنے پر 3,000 درہم کا جرمانہ ہوا تھا، مگر کمپنی کو اس کی سنگین خلاف ورزی کی وجہ سے مجموعی طور پر 50,000 درہم جرمانے اور 1,450 درہم ٹرانسپورٹ سے متعلق دیگر فیسوں کی ادائیگی کرنا پڑی۔
کمپنی نے عدالت کو اس ادائیگی کا ثبوت فراہم کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ سابق ملازم کو متعدد بار ادائیگی کے لیے کہا گیا مگر اس نے انکار کیا۔ عدالت نے ڈرائیور کے تنخواہ کے اسٹیٹمنٹ، ملازمت کا معاہدہ اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے قانون شہادت کے آرٹیکل 1 کا حوالہ دیا، جس کے مطابق دعوے دار پر اپنے دعوے کا ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور مدعا علیہ کو اس کا انکار کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ کمپنی نے ادائیگی کا واضح ثبوت فراہم کیا، اس لیے عدالت نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے سابق ڈرائیور کو مکمل رقم ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے مزید کمپنی کی جانب سے دائر کی گئی 5 فیصد تاخیر کی فیس اور قانونی اخراجات کی درخواست پر بھی غور کیا۔







