متحدہ عرب امارات

ابوظہبی سے وز ایئر کے اچانک انخلا کا اعلان، ملازمین بے یقینی کا شکار

خلیج اردو
ابوظہبی: کم لاگت فضائی کمپنی وز ایئر کی جانب سے ستمبر 2025 تک اپنی ابوظہبی کی کارروائیاں بند کرنے کے اعلان نے درجنوں ملازمین کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اچانک کیے گئے فیصلے نے عملے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، اور کئی ملازمین مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں انتظامیہ سے وضاحت کے منتظر ہیں۔

وز ایئر کے ابوظہبی آپریشن سے منسلک سینکڑوں ملازمین بشمول پائلٹس، کیبن کریو، منیجرز اور دیگر عملہ متاثر ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں۔ ایک ملازم کے مطابق اگرچہ ابوظہبی ایئرپورٹ پر براہ راست کام کرنے والا عملہ متاثر نہیں ہوگا، تاہم دیگر شعبہ جات کا مستقبل غیر واضح ہے۔

2024 میں وز ایئر ابو ظہبی نے نشستوں کی گنجائش اور مسافروں کی تعداد میں 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا، جس کے بعد اچانک انخلا کا اعلان تمام عملے کے لیے حیران کن تھا۔

ائیرلائن نے جغرافیائی سیاسی صورتحال، ریگولیٹری چیلنجز اور سخت مسابقت کو اس فیصلے کی وجوہات قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، سی ای او جوزف ورادی نے ملازمین سے ورچوئل اجلاس میں بات کی اور انہیں یورپ میں کمپنی کے دیگر مراکز میں منتقلی کا اختیار پیش کیا۔

ابوظہبی میں تعینات کچھ ملازمین کو مالٹا، ہنگری اور برطانیہ جیسے ممالک میں تبادلے کی پیشکش ہوئی ہے، لیکن سب کے لیے یہ آپشن قابل عمل نہیں۔ کئی ملازمین نے یو اے ای میں ہی رہ کر دیگر ایئرلائنز میں ملازمت کی تلاش شروع کر دی ہے، مگر مسابقتی جاب مارکیٹ کے باعث کامیابی کی ضمانت نہیں۔

ایک خاتون ملازم نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم متحدہ عرب امارات چھوڑنا نہیں چاہتے۔ یہ ملک ہمارا گھر بن چکا ہے اور یہاں کام کرنا ایک بہترین تجربہ رہا ہے۔ ہم دیگر مقامی ایئرلائنز میں نوکریوں کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے واضح منصوبہ نہ ہونے کی وجہ سے عملہ الجھن میں مبتلا ہے۔ "ہمیں مختلف ذرائع سے ادھوری معلومات مل رہی ہیں، جس سے مزید پریشانی بڑھ رہی ہے۔”

ملازمین نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کمپنی کی جانب سے کوئی پیشگی انتباہ نہیں دیا گیا۔ "ایک دن ہم معمول کے مطابق فلائٹس چلا رہے تھے، اور اگلے دن پتہ چلا کہ ابوظہبی بیس بند کی جا رہی ہے۔”

وز ایئر نے ابوظہبی سے پروازوں کے ذریعے ہزاروں رہائشیوں کو سستے داموں یورپ سمیت دیگر ممالک کا سفر ممکن بنایا تھا۔ عملے کے مطابق کمپنی کا انخلا نہ صرف ان کے لیے بلکہ مسافروں اور مقامی سروس فراہم کرنے والوں کے لیے بھی بڑا نقصان ہے۔

اگر کچھ ملازمین یورپ یا متحدہ عرب امارات میں نئی ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہیں تو انہیں اپنے وطن واپس جانا پڑ سکتا ہے، جو ایک مشکل حقیقت ہے جس کا سامنا بہت سے افراد کر رہے ہیں۔

اگرچہ صورتحال غیر یقینی ہے، مگر زیادہ تر ملازمین پر امید ہیں۔ "ہم مثبت رہنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نئے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ یو اے ای میں زندگی اور کام کا تجربہ بہترین رہا ہے اور ہم اس کمیونٹی کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں۔”

فی الوقت تمام ملازمین کمپنی کی جانب سے باضابطہ اپ ڈیٹس کے منتظر ہیں، تاکہ آئندہ کے لیے کسی واضح سمت کا تعین ہو سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button