متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں سرمایہ کاری جائیدادوں پر ٹیکس ڈیپریسی ایشن کی اجازت

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ جو کمپنیاں اپنے سرمایہ کاری مقاصد کی جائیدادوں (Investment Properties) کو فیئر ویلیو پر رکھتی ہیں، وہ ان پر ٹیکس ڈیپریسی ایشن کی کٹوتی کر سکیں گی۔

اس فیصلے کے تحت، وہ ٹیکس گزار جو "ریئلائزیشن بیسِس” کا انتخاب کرتے ہیں، اپنے ٹیکس ایبل انکم میں سے ایسی جائیدادوں پر ٹیکس ڈیپریسی ایشن کی کٹوتی کر سکتے ہیں جنہیں فیئر ویلیو کی بنیاد پر رکھا گیا ہو۔ یہ اعلان وفاقی قانون نمبر 47 آف 2022 کے تحت جاری کیا گیا ہے جو کارپوریشنز اور کاروباری اداروں پر ٹیکس سے متعلق ہے۔

فیصلے کے مطابق، ہر 12 ماہ کے ٹیکس دورانیے کے دوران یا اس سے کم مدت کے لیے، ڈیپریسی ایشن کی کٹوتی یا تو جائیداد کی اصل قیمت کے 4 فیصد یا پھر ٹیکس شدہ ویلیو میں سے کم رقم کی بنیاد پر ہوگی۔

یہ سہولت ان ٹیکس گزاروں کو دستیاب ہوگی جو کارپوریٹ ٹیکس کے نفاذ سے قبل یا بعد میں سرمایہ کاری جائیدادیں رکھتے ہیں۔ اس فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جائیداد اگر قریبی وابستہ افراد یا تیسرے فریق کو منتقل کی جائے، یا اگر وہ خود ٹیکس گزار نے تعمیر کی ہو تو ٹیکس ڈیپریسی ایشن کی ویلیو کیسے طے کی جائے گی۔

اس کے علاوہ، تاریخی لاگت کی بنیاد پر جائیداد رکھنے والے اور فیئر ویلیو پر رکھنے والے ٹیکس گزاروں کے درمیان یکسانیت بھی فراہم کی گئی ہے، تاکہ دونوں کو ڈیپریسی ایشن کٹوتی کا یکساں فائدہ حاصل ہو۔

ٹیکس گزاروں کو یہ فیصلہ اپنے پہلے ٹیکس پیریڈ میں لینا ہوگا جو یکم جنوری 2025 کے بعد شروع ہو۔ ایک بار فیصلہ کرنے کے بعد یہ تمام سرمایہ کاری جائیدادوں پر لاگو ہوگا۔ اس فیصلے میں ان کمپنیوں کے لیے ایک استثنائی موقع بھی شامل ہے جو پہلے ٹیکس دورانیے میں ریئلائزیشن بیسِس کا انتخاب نہیں کر سکیں۔

آخری طور پر، اس فیصلے میں اُن حالات کی بھی وضاحت کی گئی ہے جن میں سرمایہ کاری جائیداد بیچے بغیر بھی ڈیپریسی ایشن واپس لی جا سکتی ہے، تاکہ ٹیکس گزار اپنی قانونی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہوں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button