متحدہ عرب امارات

شارجہ کا سرخ ریت والا فایا صحرا: 2 لاکھ 10 ہزار سالہ انسانی تاریخ کا گواہ

خلیج اردو
شارجہ: 21 جولائی
شارجہ کے وسیع و عریض فایا صحرا کو اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو نے حالیہ دنوں میں عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ عرب دنیا کے لیے یہ ایک انوکھا اعزاز ہے، جو اس سرزمین کو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی انسانی تاریخ میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے۔

فایا صحرا کی سرخ ریتلی دھول کے نیچے انسانی جدوجہد، بقا اور ترقی کی ایک ناقابلِ یقین داستان دفن ہے، جو 2 لاکھ 10 ہزار سال پر محیط ہے۔ اس علاقے میں سب سے پہلے انسانوں نے پانی کی تلاش میں بسیرے ڈالے، اور جہاں پانی تھا، وہاں زندگی پروان چڑھی۔

انسانی ارتقا کی مکمل کہانی

یہ صحرا مختلف ادوار کی 18 تہوں پر مشتمل ہے جنہیں گزشتہ 30 برسوں میں دنیا بھر سے آنے والے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے کھوجا۔ ان تہوں میں انسانی بقا کی وہ نشانیاں محفوظ ہیں، جو کبھی شدید خشک سالی تو کبھی مختصر بارانی موسموں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔

فایا کی ایک منفرد بات اس کی مسلسل تاریخی ریکارڈ ہے — دنیا کے اکثر مقامات پر انسانی تاریخ کے نشانات بکھرے ہوتے ہیں، جبکہ یہاں انسانی سرگرمیوں کی مسلسل جھلک ملتی ہے۔ چقماق سے بنائے گئے ہتھیار، ہرنوں کی ہڈیوں کے ڈھانچے، اور ریت کے نیچے چھپے فوسلز ہمیں اُن ابتدائی انسانوں کی زندگیوں سے روشناس کراتے ہیں، جو یہاں شکار کرتے، آگ جلاتے اور اوزار بناتے تھے۔

بعد ازاں، جب انسان بستیاں بسانے لگے تو انہوں نے کنویں کھودے اور مویشی پال کر ان صحرائی وادیوں میں گزر بسر کی۔ ان کی حکمتِ عملی آج بھی زمین پر محفوظ ہے۔

قدرتی عجائب اور سیاحت

فایا کا نظارہ گویا وقت کے پردے کو چاک کر کے تاریخ کو آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ صبح کے وقت جب سورج کی کرنیں ریت کو سرخی مائل کرتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی قدیم خاندان آگ کے گرد بیٹھا اپنے اوزار تراش رہا ہو۔

سیاح اس تاریخی مقام پر گائیڈڈ ٹورز کے ذریعے جا سکتے ہیں، تاہم کچھ مخصوص مقامات کو بنیادی آثار کے تحفظ کے پیش نظر محدود رسائی حاصل ہے۔ ان علاقوں میں پتھروں کی وہ باقیات دیکھی جا سکتی ہیں جو کبھی سمندر کے نیچے تھیں۔

قریبی میوزیم میں ماہرین کی دریافت کردہ اشیاء بھی نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں، جہاں زائرین انسانی ارتقا کا عملی مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button