متحدہ عرب امارات

دبئی میں رہائشی معاہدوں کے تنازعات کے فوری حل کے لیے نیا قانون جاری

خلیج اردو
دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پیر کے روز شہریوں کے رہائشی تعمیراتی معاہدوں سے متعلق تنازعات کے جلد اور مؤثر حل کے لیے ایک نیا قانون جاری کیا ہے۔ یہ قانون یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کا مقصد سماجی استحکام کو مضبوط بنانا اور شہریوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا ہے۔

قانون کے تحت تعمیراتی معاہدوں سے متعلق تنازعات کو تیز تر اور مؤثر انداز میں نمٹانے کے لیے متبادل حل کے نظام (ADR) کو فروغ دیا گیا ہے، تاکہ فریقین کے حقوق محفوظ رہیں اور تعمیراتی منصوبوں کی پیش رفت متاثر نہ ہو۔

نئے قانون کے تحت سینٹر فار امی ایبل سیٹلمنٹ آف ڈسپیوٹس میں ایک خصوصی شاخ قائم کی جائے گی جو رہائشی تعمیراتی معاہدوں سے متعلق تنازعات کو دیکھے گی۔ ان تنازعات کو پہلے مرحلے میں ثالثی کے ذریعے 20 دن میں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس میں باہمی رضامندی سے 20 دن کی توسیع ممکن ہوگی۔

اگر ثالثی ناکام ہو جائے تو معاملہ ایک کمیٹی کو بھیجا جائے گا جس میں ایک جج اور دو تعمیراتی ماہرین شامل ہوں گے۔ کمیٹی کو 30 دن میں فیصلہ دینا ہوگا، جس میں ایک بار مزید 30 دن کی توسیع ممکن ہے۔ فریقین کو فیصلے کے 30 دن کے اندر کورٹ آف فرسٹ انسٹینس میں اپیل کا حق حاصل ہوگا۔

دبئی میونسپلٹی کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر مروان احمد بن غلیطہ نے کہا ہے کہ یہ قانون شہریوں، کنٹریکٹرز اور کنسلٹنٹس کے درمیان معاہدہ جاتی تعلقات کو بہتر بنائے گا اور رہائشی منصوبوں کی پائیداری کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔

دبئی جوڈیشل کونسل کے سیکرٹری جنرل پروفیسر عبداللہ سیف السبوسی نے کہا کہ یہ قانون دبئی کے عدالتی نظام کے لیے ایک قیمتی اضافہ ہے، جو متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو مضبوط بناتا ہے اور فوری اور مؤثر انصاف کو یقینی بناتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت مخصوص تربیت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ تیزی اور معیار کے ساتھ معاملات کو نمٹایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button