متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں اے آئی ٹریڈنگ بوٹس کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟

خلیج اردو
دبئی:متحدہ عرب امارات میں بڑھتی ہوئی تعداد میں سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹریڈنگ بوٹس کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ وقت کی بچت اور فوری فیصلوں میں درستگی حاصل کی جا سکے۔ ٹریڈنگ کا عمل اکثر محنت طلب اور وقت لینے والا ہوتا ہے، اسی لیے سرمایہ کار خودکار نظاموں پر انحصار کرنے لگے ہیں۔

یہ AI بوٹس چند ملی سیکنڈز میں ٹریڈ انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور وسیع مقدار میں مارکیٹ ڈیٹا کو لمحوں میں تجزیہ کر لیتے ہیں۔ ایک معروف اسٹاک بروکر کے مطابق، یہ بوٹس اسٹاکس، کموڈیٹیز، بانڈز، انڈیکسز، فاریکس اور کرپٹو کرنسی سمیت کئی مالیاتی منڈیوں کا فوری تجزیہ کر سکتے ہیں۔

تنقید اور خدشات

اگرچہ AI ٹریڈنگ بوٹس تیزرفتاری اور کارکردگی کا وعدہ کرتے ہیں، مگر ناقدین کے مطابق ان کے نتائج اب بھی قیاس پر مبنی ہوتے ہیں۔ امریکی ادارہ "کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن” (CFTC) نے جنوری 2024 میں خبردار کیا کہ
"AI ٹیکنالوجی مستقبل یا اچانک مارکیٹ تبدیلیوں کی پیش گوئی نہیں کر سکتی، اس لیے دھوکہ دہی سے بچیں۔”

عالمی مارکیٹ میں تیزی

ان خدشات کے باوجود، AI ٹریڈنگ بوٹس کی عالمی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ پریسیڈنس ریسرچ کے مطابق، AI ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کی عالمی مارکیٹ 2025 تک 13.52 ارب ڈالر (تقریباً 49 ارب درہم) اور 2034 تک 69.95 ارب ڈالر (256 ارب درہم) تک پہنچنے کی توقع ہے۔

مستقبل کا ٹریڈنگ ماڈل؟

ایکوئٹی میں سینئر اکاؤنٹ منیجر رامی الطباش کے مطابق، مارکیٹ میں AI ٹریڈنگ بوٹس کے استعمال میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے:
"ہر بوٹ مؤثر نہیں ہوتا، کارکردگی کا انحصار اس کے الگورتھم اور سرورز پر ہوتا ہے، لیکن رجحان رکنے والا نہیں۔ مستقبل میں AI ٹریڈنگ کا لازمی حصہ بن جائے گا۔”

UAE میں مقامی کمپنی کا کردار

متحدہ عرب امارات کی فِن ٹیک کمپنی Matrix AI اس میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ کمپنی کا مرکزی پروڈکٹ ایک "ڈیلی فورکاسٹ بوٹ” ہے، جو روزانہ مختلف مالیاتی انسٹرومنٹس جیسے اسٹاکس، کرنسی پیئرز اور انڈیکسز کی پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔

کمپنی کے بانی مہند الطنیجی نے بتایا کہ انہوں نے یہ پلیٹ فارم انسانی جذبات کی بنیاد پر کیے گئے غیر مؤثر فیصلوں سے بچنے کے لیے تیار کیا۔
"میں نے خود دیکھا ہے کہ خوف اور لالچ کس طرح ٹریڈرز کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ AI نہ تھکتا ہے، نہ گھبراتا ہے، اور نہ ہی بار بار سوچتا ہے۔”

الطنیجی AI کو تکنیکی اعتبار سے اعلیٰ سمجھتے ہیں، لیکن ان کے مطابق مکمل طور پر انسانی بصیرت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
"بہترین طریقہ یہ ہے کہ AI ڈیٹا کا تجزیہ اور فوری فیصلے کرے، جبکہ انسان سیاق و سباق فراہم کرے۔”

ان کا دعویٰ ہے کہ بعض اوقات Matrix AI کی حکمت عملیوں نے روایتی انسانی ٹریڈنگ کے مقابلے میں سالانہ 10 سے 20 فیصد بہتر نتائج دیے ہیں۔

کیا AI ایک غیر منصفانہ برتری ہے؟

کچھ ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ کہیں AI بوٹس مخصوص ٹریڈرز کو غیر منصفانہ برتری نہ دے دیں۔ اس پر رامی الطباش کا مؤقف ہے:
"ایسا کہنا درست نہیں کہ AI ایک غیر منصفانہ فائدہ دیتا ہے۔ یہ ٹولز سب کے لیے دستیاب ہیں، فرق صرف ان کے استعمال میں ہے۔”

سینچری فنانشل کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر وجے ویلیچا نے کہا:
"جیسے انٹرنیٹ نے اسٹاک مارکیٹ کو بدل دیا تھا، ویسے ہی AI بھی ایک نیا آلہ ہے۔ اس کا فائدہ یا نقصان اس کے استعمال اور رسائی پر منحصر ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ:
"AI ٹریڈنگ بوٹس کارکردگی، رفتار اور اسکیل کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کی اصل طاقت صاف ڈیٹا، مؤثر اصولوں، اور ذہین ڈیزائن میں ہے۔ اگر انہیں صحیح استعمال کیا جائے تو یہ انسانی فیصلوں کو بہتر بناتے ہیں، انہیں مکمل طور پر بدلتے نہیں

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button