متحدہ عرب امارات

بابوسر ٹاپ پر سیلابی ریلہ، چار افراد جاں بحق، 30 سے زائد لاپتہ

چلاس (خلیج اردو)
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے سیاحتی مقام بابوسر ٹاپ پر شدید بارش کے بعد نالے میں طغیانی کے باعث اچانک آنے والا سیلابی ریلہ تباہی مچا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق، 15 زخمی اور 30 سے زائد لاپتہ ہو گئے۔ جاں بحق افراد میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان پختون ولی نے بتایا کہ پیر کی شام چار بجے کے قریب نالہ میں طغیانی آئی، جس سے سیاحوں کی گاڑیاں، خیمے اور دیگر سامان بہہ گیا۔ پانی دونوں اطراف سے آیا، جس سے بھگدڑ مچ گئی اور کئی لوگ نالے میں پھنس گئے۔

ریسکیو آپریشن فوری طور پر شروع کیا گیا، تاہم اندھیرے کے باعث مکمل کارروائی معطل کر کے منگل کی صبح دوبارہ شروع کی گئی۔ چلاس اور گلگت سے ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور فوج کے دستے علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔

اب تک 15 گاڑیاں پانی میں بہنے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ سیاحوں اور مقامی افراد کی تلاش جاری ہے۔ گلگت بلتستان حکومت نے علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور عوام کو بابوسر کی طرف سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 بابوسر ٹاپ پر آنے والے اچانک سیلابی ریلے نے مقامی آبادی اور سیاحوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ جائے وقوعہ پر موجود صحافیوں اور مقامی افراد کے مطابق پانی اتنی شدت سے آیا کہ ہر طرف قیامت کا منظر تھا۔ گاڑیاں، خیمے اور لوگ سب کچھ پانی میں بہہ گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق کئی افراد پانی میں بہنے سے بچنے کے لیے پہاڑوں پر چڑھ گئے، جبکہ کچھ اپنے پیاروں کو بچانے کی کوشش میں خود بھی پانی کی لپیٹ میں آ گئے۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ سیاح نالے کے قریب گاڑیاں پارک کر کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک پانی کا زور دار ریلہ آیا اور سب کچھ بہا لے گیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں موبائل سگنلز نہ ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو بلانے میں تاخیر ہوئی۔ کئی سیاح لاپتہ ہیں اور ان کے اہل خانہ بے چینی سے معلومات کے منتظر ہیں۔ این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے شمالی علاقہ جات میں سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button