متحدہ عرب امارات

دبئی: ولاز کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر، پانچ سالہ پراپرٹی بوم میں بے مثال اضافہ

خلیج اردو
دبئی: دبئی کی جائیداد کی مارکیٹ گزشتہ پانچ برس سے مسلسل بلندی کی جانب گامزن ہے، اور اب ولاز اس بوم کے مرکز میں آ چکے ہیں۔ سال بہ سال 16 فیصد اضافے کے ساتھ ولاز نے دیگر تمام رہائشی اقسام کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر رہائشی قیمتوں میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

بین الاقوامی رئیل اسٹیٹ کنسلٹنسی نائٹ فرانک کے مطابق 2025 کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) میں 51,000 سے زائد مکانات کی فروخت ریکارڈ کی گئی — جو کہ کسی بھی سہ ماہی میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ولا کی طلب میں زبردست اضافہ

نائٹ فرانک میں مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA) ریسرچ کے سربراہ فیصل درّانی نے کہا کہ ولاز مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر چکی ہے۔ "2029 تک متوقع نئی ہاؤسنگ سپلائی میں صرف 20 فیصد ولاز ہوں گے، جبکہ فیملی ہومز کی طلب بدستور مضبوط ہے، جس کی وجہ سے ولا اور اپارٹمنٹ کی قیمتوں میں فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ کووِڈ-19 کے بعد خریدار بڑی اور کشادہ رہائش گاہوں کی تلاش میں ہیں، جن میں ہوم آفس، جم اور آؤٹ ڈور اسپیس شامل ہوں۔ "بین الاقوامی دولت مند افراد (HNWIs) خاص طور پر دبئی کے مہنگے ترین، بیچ فرنٹ ولاز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔”

قیمتیں ریکارڈ سطح پر

ولا کی قیمتیں اس سہ ماہی میں 4 فیصد بڑھ کر فی مربع فٹ 2,172 درہم ہو گئیں — جو کہ اپارٹمنٹس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ولاز کی قیمتیں اب 2014 کی بلند ترین سطح سے 49.3 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ اپارٹمنٹس کی قیمتیں صرف 17.5 فیصد بڑھ سکی ہیں۔

کون سے علاقے سب سے آگے؟

ولا کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے والے علاقوں میں وکٹری ہائٹس، البراری، جمیرا پارک اور دبئی ہلز اسٹیٹ شامل ہیں، جہاں قیمتوں میں سہ ماہی بنیادوں پر 8 سے 10 فیصد اضافہ ہوا۔ البراری اور دبئی ہلز اسٹیٹ اب دبئی کے نمایاں ولاز مارکیٹس میں شمار ہوتے ہیں۔

سالانہ کارکردگی میں گرین کمیونٹی ویسٹ، الفرجان، ایما ر ساؤتھ، دی میڈوز اور عربین رانچز نے بہترین کارکردگی دکھائی۔

خریدار کون ہیں؟

ریجنل پارٹنر اور ہیڈ آف ریزیڈنشل، مینا، ول مکِنٹوش کے مطابق، مارکیٹ میں اب حقیقی خریداروں کی تعداد زیادہ ہے، جبکہ سستے میں خرید کر فوراً فروخت کرنے والے سرمایہ کاروں کی شرح بہت کم ہو چکی ہے۔ آج صرف 4-5 فیصد گھر ایک سال کے اندر دوبارہ فروخت ہوتے ہیں، جبکہ 2008 میں یہ شرح 25 فیصد تھی۔

فیصل درّانی نے وضاحت کی کہ اب مارکیٹ زیادہ مستحکم اور طویل مدتی سرمایہ کاروں پر مشتمل ہے۔ "خریداروں کی بڑی تعداد خاندانوں پر مشتمل ہے، جو ولاز کو ترجیح دیتی ہے۔”

پانچ سالہ مسلسل ترقی

2025 کی پہلی ششماہی میں رہائشی جائیدادوں کی مجموعی فروخت 268 ارب درہم تک پہنچ گئی، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔ نائٹ فرانک کا اندازہ ہے کہ یہ سال 2024 کی 367 ارب درہم کی ریکارڈ فروخت کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔

دبئی میں اوسط رہائشی قیمتیں Q2 2025 میں 3.4 فیصد بڑھ کر فی مربع فٹ 1,809 درہم ہو گئیں، جو کہ 2014 کی پچھلی چوٹی سے 21.6 فیصد زیادہ ہے۔

درّانی کے مطابق، "مسلسل پانچ سالہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اب مارکیٹ زیادہ مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ہو چکی ہے۔”

ولا مارکیٹ میں استحکام کے آثار اور مزید اضافہ متوقع

مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ولاز کی قلت، مستحکم طلب، اور خریداروں کی نوعیت میں تبدیلی کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ آف پلان فروخت Q2 میں تمام ٹرانزیکشنز کا 70 فیصد رہی، جبکہ پام جمیرا، جمیرا بے، امارات ہلز اور دبئی ہلز اسٹیٹ اب بھی HNWI خریداروں کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button