متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: ویزا ایمنسٹی کے باوجود غیرقانونی طور پر مقیم ہزاروں افراد کی ملک بدری شروع

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ویزا ایمنسٹی پروگرام کے تحت گزشتہ سال ہزاروں افراد کو اپنے قیام کو قانونی شکل دینے یا بلا جرمانہ ملک چھوڑنے کا موقع دیا گیا تھا، تاہم کئی افراد نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا، جس کے بعد اب ان کی ملک بدری کا سلسلہ جاری ہے۔

ماہرین اور سماجی کارکنوں کے مطابق غلط فہمی، انکار اور جھوٹی امیدوں نے کئی غیرقانونی رہائشیوں کو بار بار کی وارننگز کے باوجود لاتعلق رکھا۔ اب یہ افراد نہ صرف حراست میں لیے جا رہے ہیں بلکہ انہیں بلیک لسٹ بھی کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہ متحدہ عرب امارات میں دوبارہ داخل نہیں ہو سکیں گے۔

عربین بزنس سینٹر کے آپریشنز مینیجر فیروز خان نے بتایا کہ "حکومت نے چار ماہ کا وقت دیا، لیکن کئی افراد نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ایمنسٹی کے دوران قیام کو قانونی بنایا، مگر بعد میں پھر سے غیرقانونی ہو گئے۔ اب ان پر بھاری جرمانے لاگو ہو چکے ہیں۔”

2024 میں یہ ایمنسٹی پروگرام یکم ستمبر سے 31 دسمبر تک جاری رہا، جسے بعد میں 60 دن کے لیے بڑھایا گیا۔ اس دوران غیرقانونی رہائشیوں کو یا تو ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی یا قانونی ملازمت تلاش کرنے کی صورت میں قیام کا موقع ملا۔

سپر جیٹ گروپ کے ایم ڈی، مسیع الدین محمد کا کہنا ہے کہ "کچھ افراد نے ملازمت کی کوشش کی، مگر ناکام رہے، جبکہ کئی نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اب جب وہ پکڑے جا رہے ہیں تو نہ صرف ڈی پورٹ ہو رہے ہیں بلکہ بلیک لسٹ بھی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ غیرقانونی قیام کے اثرات صرف ملک بدری تک محدود نہیں۔ "ایسے افراد صحت کی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں، اسپتال کے بل ادا نہیں کر سکتے، کوئی کفیل نہیں ہوتا، اور بعض پر بینک قرض یا قانونی کیسز بھی ہوتے ہیں۔”

وفاقی اتھارٹی برائے شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی (ICP) کے مطابق جنوری سے جون 2025 کے درمیان 32,000 سے زائد افراد کو غیرقانونی قیام پر گرفتار کیا گیا، جن میں سے 70 فیصد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

حکام کے مطابق جو افراد ازخود جرمانے ادا کرکے ملک چھوڑتے ہیں، انہیں رعایت اور دوبارہ داخلے کی گنجائش دی جا سکتی ہے، تاہم گرفتاری کی صورت میں یہ قانونی مسئلہ بن جاتا ہے۔

سماجی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ غیرقانونی گھریلو ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو بغیر کسی شناخت کے گھروں میں کام کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف قانونی چارہ جوئی ممکن نہیں بلکہ چوری یا بدسلوکی کے واقعات بھی رپورٹ نہیں ہو پاتے۔

شارجہ انڈین ایسوسی ایشن کے رکن عبداللہ کاممپالم نے کہا کہ "ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صرف قابل اعتماد ایجنسیوں سے ملازمین رکھیں اور غیر دستاویزی افراد سے اجتناب کریں۔”

حکام کا کہنا ہے کہ 2007 سے اب تک 4 بار ویزا ایمنسٹی دی جا چکی ہے، جن میں سے 2024 کی ایمنسٹی سب سے حالیہ تھی۔ اس میں ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی، لیکن اب جب یہ پروگرام بند ہو چکا ہے تو جرمانے اور قانونی کارروائیاں بحال کر دی گئی ہیں۔

ان افراد کے لیے جو کسی نئی ایمنسٹی کا انتظار کرتے رہے، مسیع الدین محمد کا کہنا ہے کہ "یہ موقع وہ گنوا چکے ہیں، اور اس کے نتائج زندگی بھر ان کا پیچھا کر سکتے ہیں۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button