متحدہ عرب امارات

دبئی کے حکمران سے 40 سال پہلے بات کی تھی: تاجر کی یادیں دوبارہ تازہ

خلیج اردو
دبئی: "میں نے ان سے 40 سال پہلے بات کی تھی،” دبئی کے پرانے سوق دیرا میں مصالحے اور خشک میوہ جات کے تاجر عبداللہ اسد نے کہا۔ "انہوں نے میرے دکان کے سامان کے بارے میں پوچھا تھا، میں نے انہیں کچھ جڑی بوٹیوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد سے میں ہر سال انہیں دیکھتا ہوں، لیکن دوبارہ بات کرنے کا موقع نہیں ملا۔”

منگل کے روز، عبداللہ نے ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو دیرا کے پرانے سوق کی تنگ گلیوں میں چہل قدمی کرتے دیکھا۔ اس لمحے نے عبداللہ کی پرانی یادیں تازہ کر دیں۔ "میں آج بھی اس گفتگو کو دل سے یاد کرتا ہوں اور یہ میری زندگی کا اثاثہ ہے،” عبداللہ نے کہا۔

انہوں نے مزید بتایا، "جب حکمران سوق میں داخل ہوئے تو میں نے بے اختیار ماشا اللہ کہا۔ میرے ارد گرد موجود ہر شخص نے یہی کہا۔ وہ اس بازار میں ایسے چل رہے تھے جیسے ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوں، اور وہ ہر طرف دیکھ رہے تھے کہ سب کچھ ٹھیک طرح سے چل رہا ہے یا نہیں، بالکل ایک ایسے رہنما کی طرح جو اپنے لوگوں اور شہر کا سچا خیرخواہ ہو۔”

دیرا سوق صرف ایک بازار نہیں بلکہ تاریخ، مصالحوں کی خوشبوؤں اور دنیا بھر سے آنے والی آوازوں کا مرکز ہے۔ تاجروں اور خریداروں کے لیے شیخ محمد کی یہ آمد ایک مکمل حیرانی کا لمحہ تھی۔ جیسے ہی وہ بازار سے گزرے، لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔

‘جب میں نے انہیں دیکھا تو ساکت ہو گیا’
خشک میوہ جات کے تاجر مختار عبداللہ نے کہا، "میرے سیلز مین نے دوڑ کر آ کر بتایا کہ حکمران بازار میں ہیں۔ میں نے یقین نہیں کیا کیونکہ پہلے بھی مذاق کا شکار ہو چکا ہوں۔ لیکن جب شیخ محمد میرے دکان کے قریب آئے تو میں ساکت ہو گیا۔ مجھے خود کو یقین دلانے کے لیے چٹکی کاٹنی پڑی۔ میرے دادا اور والد مجھے ان کے پرانے دوروں کی کہانیاں سناتے تھے، اور آج میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔”

کچھ لوگ یہ لمحہ کھو بیٹھے
تاہم ہر کوئی اتنا خوش نصیب نہیں تھا کہ ان کی جھلک دیکھ سکے۔ عبدال بادی، جو سوق میں کاروبار کرتے ہیں، حکمران کی آمد کے چند لمحے بعد پہنچے۔ "میں نے شام 6 بجے کے قریب کچھ لگژری گاڑیاں آتے دیکھیں، لیکن میں اپنے کام میں مصروف تھا۔ دبئی میں لگژری گاڑیاں دیکھنا معمول کی بات ہے۔ جب میں 20 منٹ بعد واپس آیا تو دیکھا کہ میرے دکان کے پاس ہجوم جمع ہے۔ معلوم ہوا کہ شیخ محمد یہاں آئے تھے۔ میرا دل ڈوب گیا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب میں ان کی آمد سے محروم رہ گیا۔ ایسا لگتا ہے میں ہمیشہ غلط وقت پر غلط جگہ ہوتا ہوں۔”

ریڑھی بان کی خوشی کا لمحہ
محمد خالق، جو سوق میں ریڑھی بان ہیں، نے بتایا کہ وہ کس طرح حکمران کو دیکھنے کے لیے دوڑے۔ "میں اپنی ریڑھی لے کر گزر رہا تھا۔ میں نے ریڑھی ایک طرف کھڑی کی اور انہیں دیکھنے کے لیے دوڑ پڑا۔ جب شیخ محمد گدے والے سوق میں داخل ہوئے تو میں بھیڑ میں خاموشی سے کھڑا ہو گیا۔”

"یہ کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی، لیکن ان کے قریب جا کر ایک خاص سا احساس ہوتا ہے۔ ان میں قیادت ہے، مگر سکون بھی ہے۔ ان کی آنکھوں میں شفقت ہے۔ ان کی موجودگی طاقتور ہے، مگر نرمی کے ساتھ۔ ان کا وقار جادوئی ہے۔”

خالق نے یہ بھی محسوس کیا کہ شیخ محمد کے ارد گرد باڈی گارڈز کی ضرورت نہیں تھی جو لوگوں کو پیچھے دھکیلیں۔ "نہ کوئی بلند آواز اعلان تھا، نہ رکاوٹیں۔ لوگ خودبخود پیچھے ہٹ جاتے ہیں، محبت اور احترام میں۔”

‘عظمت کا آغاز عاجزی سے ہوتا ہے’
اپنی دکان پر واپس آ کر عبداللہ اسد نے اس دورے کے معنی پر غور کیا۔ "میری عمر اب 72 سال ہے۔ میں نے اس بازار کو بدلتے دیکھا ہے، اور اس شہر کو حیرت انگیز ترقی کرتے دیکھا ہے۔ مگر جب آپ شیخ محمد کو انہی گلیوں میں چلتے دیکھتے ہیں تو یہ یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت عاجزی سے جنم لیتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button