متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں مقیم غزہ کے شہریوں کی بھوک اور بقا کی دل دہلا دینے والی داستانیں

خلیج اردو
دبئی: "ناممکن کی تلاش” — یہی الفاظ غزہ کے فوٹو جرنلسٹ حمام یونس الزیتونیہ نے اپنی روزمرہ زندگی کی عکاسی کے لیے کہے۔ یونس، جو یو اے ای کے رہائشی انور عونی کے پڑوسی ہیں، نے خلیج ٹائمز کے ساتھ گفتگو میں غزہ کے باسیوں کی بقا کے لیے جاری کربناک جدوجہد بیان کی۔

یونس نے بتایا کہ خوراک بازاروں میں تقریباً ناپید ہو چکی ہے اور جہاں کہیں دستیاب ہے وہاں قیمتیں ناقابلِ برداشت ہیں۔ پہلے ان کی بہن کھانے کی تلاش میں باہر جاتی تھی، مگر اس ہفتے بازار ہی ختم ہو چکے ہیں۔ "خوراک کی تلاش تقریباً ناممکن بن چکی ہے۔ ہم نے بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے اپنے گھر کے باغیچے میں سبزیاں اُگانا شروع کر دی ہیں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن” کا امدادی مرکز موت کا پھندا بن چکا ہے۔ "ہم وہاں نہیں جا سکتے۔ پچھلے فضائی حملے میں میرے خاندان کے 13 افراد شہید ہو چکے ہیں، اور زخمی ہونے کے باعث ہم اب آزادانہ نقل و حرکت کے قابل نہیں رہے۔”

یونس کے خاندان کے افراد دسمبر 2023 میں ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے، جبکہ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ "جو لوگ بچ گئے ہیں، وہ اب خبروں پر توجہ دینے کے بجائے صرف کھانے اور پانی کی فکر کرتے ہیں، اور یہی ہماری حقیقت بیان کرتا ہے۔”

خوراک کی مہنگائی اور امدادی مراکز کے خطرناک حالات کے باعث غزہ کے شہری شدید غذائی قلت اور قحط کا شکار ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز 100 سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا کہ غزہ کے شہریوں کے خلاف دانستہ بھوک مسلط کرنے کے واقعات میں شدت آ چکی ہے۔

ہر دن ایک نئی جدوجہد
یو اے ای میں مقیم یارا بلسلات نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ غزہ میں "جو کچھ بھی دستیاب ہے اسی پر گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا، "غزہ میں زندگی اس وقت انتہائی کٹھن اور غیر یقینی ہے۔ ہر دن ایک جدوجہد ہے، لوگ جاگتے ہیں اور نہیں جانتے کہ آج انہیں خوراک، پانی یا بنیادی تحفظ ملے گا یا نہیں۔”

بلسلات کے مطابق ان کے خاندان نے کچھ امداد تو حاصل کی ہے، مگر وہ بھی بے قاعدہ اور ناکافی ہے۔ امدادی مراکز پر ہجوم کا عالم ہے اور لوگ گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے کے باوجود خالی ہاتھ لوٹتے ہیں۔ "لوگ شدید گرمی اور دباؤ میں گھنٹوں انتظار کرتے ہیں، مگر اکثر سپلائیز ختم ہونے پر واپس لوٹنا پڑتا ہے۔”

یارا نے بتایا کہ بھوک، محدود غذائی ذخائر، امدادی مراکز پر قتل عام، اور فضاء میں مسلسل ڈرونز کی گونج نے ان کے لیے یہ وقت زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ بنا دیا ہے۔ وہ اپنے اہل خانہ سے رابطے میں رہنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں، مگر کئی دن گزر جاتے ہیں جب کوئی اطلاع نہیں آتی۔ "جب بات ہوتی ہے تو صرف یہی معلوم کیا جاتا ہے کہ سب خیریت سے ہیں یا نہیں۔ وقت اور حالات کی وجہ سے طویل بات چیت ممکن نہیں۔ مگر ان کی آواز سن لینا ہی بہت بڑی نعمت ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، "فکر کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ ہر پیغام اور کال خوف کے ساتھ آتی ہے، مگر امید بھی قائم رکھتی ہوں۔ میں اپنے اہل خانہ کے لیے مضبوط رہنے کی کوشش کرتی ہوں، اور ہر دعا میں انہیں یاد رکھتی ہوں۔”

‘موت کا مرحلہ’
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے اتوار کے روز ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں، سنائپرز اور فائرنگ کے سبب غزہ میں امدادی خوراک لے جانے والے 25 ٹرکوں کے قریب جمع ہونے والے عام شہری جاں بحق ہوئے۔ "ہم اس المناک واقعے پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہیں، جس میں بے شمار جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ لوگ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے لیے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنا کس قدر خطرناک ہو چکا ہے۔”

اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) نے بھی غزہ میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ یو این آر ڈبلیو اے کے ایک کارکن کے مطابق غزہ "موت کے مرحلے” میں داخل ہو چکا ہے۔ "یہاں ہر طرف موت ہے، چاہے وہ بمباری ہو، فضائی حملے ہوں، یا بچے جو غذائی قلت اور پانی کی کمی کے باعث والدین کے سامنے دم توڑ رہے ہیں۔”

بدھ کے روز غزہ کی وزارت صحت نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ غذائی قلت اور بھوک سے متعلقہ بیماریوں کے سبب 111 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 59,219 اور زخمیوں کی تعداد 143,045 ہو چکی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button