متحدہ عرب امارات

یو اے ای بینکوں نے او ٹی پیز کا استعمال ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، جدید تصدیقی نظام متعارف

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں بینکنگ سیکٹر نے صارفین کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مزید محفوظ بنانے کے لیے روایتی ون ٹائم پاس ورڈز (او ٹی پیز) کا استعمال ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 25 جولائی سے بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے او ٹی پیز بھیجنے کا سلسلہ بتدریج بند کردیا جائے گا اور اس کی جگہ موبائل ایپلیکیشنز کے اندر تصدیقی فیچرز متعارف کرائے جائیں گے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر ریاض کمال ایوب نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کے بینک اور ریگولیٹرز جدید سیکیورٹی ٹیکنالوجیز اپنانے میں قابل ستائش اقدامات کر رہے ہیں، جو صارفین کی شناخت کو محفوظ بنانے اور بغیر رکاوٹ کے بینکنگ تجربہ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

ریاض کمال ایوب کے مطابق بینکوں کی جانب سے جو جدید تصدیقی طریقے متعارف کرائے جا رہے ہیں ان میں فائیڈو 2 پر مبنی پاس کیز، ڈی سینٹرلائزڈ ڈیجیٹل آئیڈینٹی، بیہیویئرل بائیو میٹرکس، پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی، ہارڈ ویئر آتھنٹی کیٹرز (YubiKeys)، ڈیپ فیک ڈیٹیکشن سسٹمز اور کلاؤڈ بیسڈ آئیڈینٹی پلیٹ فارمز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاس کیز اور بائیو میٹرکس کی مدد سے صارفین کو ایک بار ٹچ پر لاگ اِن کی سہولت فراہم ہوگی، جبکہ ڈی سینٹرلائزڈ آئیڈینٹی کے تحت صارفین کی ذاتی معلومات کسی ایک ڈیٹابیس میں محفوظ نہیں ہوں گی جس سے ڈیٹا بریچ کے خدشات کم ہوں گے۔

ریاض ایوب نے مزید بتایا کہ بیہیویئرل بائیو میٹرکس کے ذریعے صارفین کے ٹائپنگ پیٹرن، سوائپنگ موومنٹس اور دیگر رویوں کی بنیاد پر مسلسل تصدیق کی جائے گی، جو فراڈ کی کسی بھی کوشش کو فوری طور پر شناخت کر لے گا۔

پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی کو بینک بڑی مالیاتی ٹرانزیکشنز کی سیکیورٹی کے لیے آزمائش کے طور پر لاگو کر رہے ہیں جبکہ وی آئی پی کلائنٹس کے لیے ہارڈ ویئر آتھنٹی کیٹرز (YubiKeys) متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ میل ویئر اور فشنگ حملوں کا خطرہ ختم کیا جا سکے۔

ڈیپ فیک ڈیٹیکشن سسٹمز کے تحت اے آئی پاورڈ لائیونس ٹیسٹس کے ذریعے چہرے اور آواز کی تصدیق کی جائے گی تاکہ کسی جعلی شناخت کے ذریعے بینکنگ فراڈ کو روکا جا سکے۔

بینکوں کی جانب سے کلاؤڈ بیسڈ آئیڈینٹی پلیٹ فارمز کی جانب منتقلی کا عمل بھی جاری ہے تاکہ صارفین کو تمام ڈیجیٹل چینلز پر محفوظ اور ہموار بینکنگ خدمات فراہم کی جا سکیں۔

ریاض کمال ایوب نے کہا کہ یو اے ای کا یہ اقدام نہ صرف بینکنگ سیکٹر کی سیکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرے گا بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل فنانس میں ملک کی قیادت کو بھی مستحکم کرے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button