متحدہ عرب امارات

یو اے ای اور دیگر 8 ممالک کا مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری کے اعلان کی شدید مذمت

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے بحرین، مصر، انڈونیشیا، اردن، نائجیریا، فلسطین، قطر، سعودی عرب، ترکی، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر نام نہاد اسرائیلی خودمختاری کے نفاذ کے اعلان کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔ جمعرات کو جاری کردہ مشترکہ بیان میں اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی سنگین پامالی قرار دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا اقدام یا فیصلہ جس کا مقصد اسرائیلی قبضے کو قانونی حیثیت دینا ہو، بین الاقوامی طور پر کالعدم ہے، جس میں 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ تمام ممالک نے واضح طور پر کہا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں اور اس یکطرفہ اقدام کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی اس سے ان علاقوں کا قانونی درجہ تبدیل ہو سکتا ہے، بالخصوص مشرقی یروشلم جو فلسطینی سرزمین کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔

مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیل کے ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائیں گے جو پہلے ہی غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کے باعث خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ تمام فریقین نے دو ریاستی حل اور عرب امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بین الاقوامی قانونی جواز پر مبنی حل ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button