
خلیج اردو
دبئی: دبئی کے ایک غمزدہ والد ابو عمر نے اپنے 19 سالہ بیٹے کو منشیات کے باعث کھو دینے کے بعد والدین سے اپیل کی ہے کہ نشے کو بدنامی نہ سمجھیں بلکہ بیماری سمجھ کر اس کا علاج کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان تاخیر کیے بغیر مدد طلب کریں کیونکہ شرمندگی کا خوف بچے کی زندگی سے قیمتی نہیں۔
ابو عمر نے دبئی پولیس کے نئے آگاہی پوڈکاسٹ ‘متعافی’ (Recovered) کی پہلی قسط میں اپنی داستان سنائی کہ کس طرح چھوٹے رویوں سے آغاز ہونے والی کہانی ایک بڑے سانحے پر ختم ہوئی۔ ان کا بیٹا جو پولیس فورس میں شامل ہونے کا خواب دیکھتا تھا، منشیات کی لت کے باعث 20 سال کی عمر سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گیا۔
ابو عمر کا کہنا تھا کہ ابتدا میں نشے کی علامات واضح نہیں تھیں۔ ان کا بیٹا ہمیشہ ان کے قریب رہتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ وہ کمرے میں بند رہنے لگا، باہر جانے سے انکار کرتا اور دن بھر پلے اسٹیشن کھیلتا۔ یہ سب کچھ نارمل نوعمری کی بیزاری محسوس ہوتا رہا، حتیٰ کہ اسکول نے بھی کسی خرابی کی اطلاع نہ دی۔
ایک حادثہ کے بعد جب بیٹے کو جرمنی لے جایا گیا تو وہاں اینستھیزیا ڈاکٹر نے ابو عمر کو چونکا دینے والی بات بتائی کہ ان کا بیٹا دوائیوں کے اثرات کے خلاف غیرمعمولی مزاحمت دکھا رہا ہے، جو ایک نشئی کی علامت ہے۔ اسی لمحے ابو عمر نے اپنے بیٹے سے براہ راست سوال کیا کہ کیا وہ نشہ کرتا ہے؟ اور تب وہ سچائی سامنے آئی جس سے وہ آنکھیں چرا رہے تھے۔
گھر واپس آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو گئی۔ بیٹے کے کمرے سے گولیاں اور سرنجیں ملیں۔ والدین نے اس سے بات کی، وہ رو پڑا، معافی مانگی لیکن انہوں نے معاملہ پولیس یا ماہرین کے حوالے نہ کیا اور اسے خود ہی سنبھالنے کی کوشش کی جو ان کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ بیٹے کو بحالی مرکز بھیجا گیا مگر وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔
ابو عمر نے بتایا کہ آخرکار انہیں خود دبئی پولیس کی انسداد منشیات ٹیم کو کال کرنی پڑی۔ ان کا بیٹا پہلے ہی ایک بار گرفتار ہو چکا تھا جس کی خبر بھی والدین کو بعد میں ملی۔ پانچ ماہ قید کاٹنے کے باوجود وہ قائل نہ ہو سکا کہ اسے علاج کی ضرورت ہے۔ بالآخر، وہ اپنے وعدوں کے باوجود انہی دوستوں کی صحبت میں لوٹ گیا اور زندگی کی تیسری چانس نہ مل سکی۔ وہ دنیا سے چلا گیا۔
ابو عمر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ نشے کو بدنامی نہ سمجھیں بلکہ بیماری تصور کریں اور فوراً مدد طلب کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ وقت واپس لا سکتے تو ابتدائی علامات پر ہی بیٹے کو پولیس اور ماہرین کے حوالے کر دیتے۔
دبئی پولیس کی جنرل ڈیپارٹمنٹ آف اینٹی نارکوٹکس اور سیکیورٹی آگاہی ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ کاوش ‘متعافی’ پوڈکاسٹ کا مقصد حقیقی کہانیوں کے ذریعے نشے کے خلاف شعور اجاگر کرنا، بدنامی کے تصور کو ختم کرنا اور جلد مداخلت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی انسداد منشیات قانون کے آرٹیکل 89 کے تحت نشے کے عادی افراد علاج کے لیے رجوع کرنے پر فوجداری کارروائی سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں۔
‘متعافی’ پوڈکاسٹ کی پہلی قسط دبئی پولیس کے آفیشل یوٹیوب چینل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے۔






