متحدہ عرب امارات

ابوظہبی کی قیادت میں افغان ماؤں اور بچوں کے لیے انسانی ہمدردی کی انقلابی مہم

خلیج اردو
افغان خاتون شازیہ محمدی نے جب حال ہی میں اپنے ساتویں بچے کو جنم دیا تو یہ لمحہ صرف ان کے خاندان کے لیے نہیں بلکہ افغانستان کی ہزاروں ماؤں کے لیے ایک تاریخی موقع ثابت ہوا، جو اب ابوظہبی کی قیادت میں چلنے والی انسانی ہمدردی کی مہم کے تحت جان بچانے والی طبی سہولیات تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔

شازیہ نے بتایا کہ "پہلے ہمیں صرف گھروں میں ہی بچے پیدا کرنے پڑتے تھے، لیکن ہمارے گھر کے قریب اس کلینک کا قیام ہمارے لیے نعمت بن گیا ہے۔” ان کے شوہر رمضان نے کہا کہ یہ ان کے لیے پہلی بار تھا کہ کسی ماہر طبی عملے کی زیر نگرانی زچگی کا تجربہ ہوا، اس سے قبل ان کے چھ بچوں کی پیدائش گھریلو سطح پر ہوئی تھی۔

شازیہ اور رمضان نے فاطمہ بنت محمد بن زاید انیشیٹیو (FBMI) کا شکریہ ادا کیا، جو شیخہ فاطمہ بنت محمد بن زاید اور افغانستان میں تنویر انویسٹمنٹس کے اشتراک سے قائم ایک فلاحی منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ افغانستان کے سات صوبوں میں 10 کلینکس کے ذریعے 1 لاکھ سے زائد افراد کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے، جو صحت، تعلیم اور روزگار جیسے شعبوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔

FBMI کے تحت زچگی کی دیکھ بھال، ایمرجنسی زچگی سروسز، بچوں کی طبی نگہداشت اور مفت ویکسینیشن کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہر کلینک روزانہ 100 سے زائد مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرتا ہے، جنہیں مقامی تربیت یافتہ عملے کی جانب سے ثقافتی حساسیت کے ساتھ خدمات مہیا کی جاتی ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں FBMI نے 2010 سے اب تک 20,000 سے زائد بچوں کو تعلیمی مدد فراہم کی ہے، جس میں خواندگی، ریاضی اور صحت کی آگاہی کے پروگرام شامل ہیں۔ FBMI کے سی ای او میوند جبارخیل نے بتایا کہ "ہمارا نقطہ نظر صحت، روزگار اور تعلیم کے ذریعے دیرپا استحکام پیدا کرنا ہے۔”

2010 سے اب تک FBMI نے افغانستان میں 8,000 سے زائد افراد کو مختلف شعبوں میں ملازمت فراہم کی ہے، جن میں صحت، زراعت اور قالین بافی شامل ہیں۔ یہ پروگرام مستقل روزگار پیدا کرتے ہوئے بچوں کی تعلیم اور خاندانوں کی طبی ضروریات پوری کرتا ہے۔

جبارخیل کے مطابق، "روزگار نہ صرف آمدن لاتا ہے بلکہ وقار، استحکام اور امید بھی دیتا ہے۔ خاندان اپنے بچوں کو اسکول بھیج سکتے ہیں، بنیادی ضروریات پوری کر سکتے ہیں اور اپنے مستقبل پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔”

افغانستان میں کام کرنے کے چیلنجز کے حوالے سے جبارخیل نے کہا کہ "سب سے بڑا چیلنج افغانستان میں جاری غیر یقینی صورتحال میں کام کرنا ہے۔ سیاسی تبدیلیاں، معاشی عدم استحکام اور بنیادی ڈھانچے میں رکاوٹیں مستقل مزاحمت پیدا کرتی ہیں۔”

FBMI نے مقامی ثقافت کو اپنے ہر اقدام کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ "ہم ہر سطح پر کمیونٹی کے بزرگوں سے مشاورت کرتے ہیں، مقامی ٹیموں کو ملازمت دیتے ہیں اور ایسے پروگرامز ڈیزائن کرتے ہیں جو افغان روایات اور اقدار کے عین مطابق ہوں۔”

FBMI کی کامیابی کے بعد ادارہ اگلے 50 سالوں میں دیگر ممالک تک اپنے دائرہ کار کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس وقت یہ پروگرام تنزانیہ اور زنجبار میں بھی اپنے منصوبے چلا رہا ہے اور دیگر علاقوں میں بھی اپنی خدمات کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button