متحدہ عرب امارات

ابوظہبی: سابق خاتون ملازمہ نے کمپنی کے خلاف 13 لاکھ درہم تنخواہ واپسی کیس جیت لیا

خلیج اردو
ابوظہبی: ابوظہبی کی کورٹ آف کیسیشن نے ایک اہم فیصلے میں سابق خاتون ملازمہ کو 13 لاکھ 38 ہزار درہم (Dh1.33 ملین) کی تنخواہوں کی واپسی کے مقدمے میں ریلیف دے دیا۔ عدالت نے نچلی عدالتوں کے اس فیصلے کو جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا جس میں خاتون ملازمہ کو 18 ماہ کی غیر حاضری کے دوران حاصل کردہ تنخواہیں واپس کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

مدعیہ، جو 2 فروری 2014 سے مذکورہ کمپنی میں کھلی مدت کے معاہدے کے تحت کام کر رہی تھیں، کا بنیادی ماہانہ تنخواہ Dh35,937 اور مکمل پیکج Dh95,630 تھا۔ کمپنی نے انہیں 23 اکتوبر 2024 کو ملازمت سے فارغ کر دیا، جس کے بعد انہوں نے ناجائز برطرفی کا دعویٰ دائر کیا۔

انہوں نے اپنے دعوے میں Dh573,785 کی بقایا تنخواہ، Dh286,892 کا ہرجانہ برائے ناجائز برطرفی، Dh191,261 کی رخصتی کی مد میں رقم، Dh95,630 بطور نوٹس پیریڈ تنخواہ، Dh324,330 بطور گریجویٹی، Dh500,000 بطور اخلاقی و مادی نقصان اور 12 فیصد قانونی سود کا مطالبہ کیا تھا۔

کمپنی کا جوابی دعویٰ

کمپنی نے جوابی دعویٰ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مدعیہ نے 18 ماہ کے دوران بغیر کسی جواز کے غیر حاضری اختیار کی اور اس دوران Dh1,338,833 کی تنخواہ وصول کی، جو واپس کی جانی چاہیے۔

نچلی عدالتوں کے فیصلے

ابتدائی طور پر کورٹ آف فرسٹ انسٹینس نے 10 مارچ 2025 کو اپنے فیصلے میں ملازمہ کو صرف Dh103,665 (چھٹیوں اور نوٹس پیریڈ کی مد میں) دینے کا حکم دیا اور کمپنی کے جوابی دعویٰ کو تسلیم کرتے ہوئے ملازمہ کو Dh1.33 ملین کی تنخواہ واپس کرنے کا پابند کیا۔ اپیل کورٹ نے بھی 29 اپریل 2025 کو اسی فیصلے کو برقرار رکھا۔

کیسیشن کورٹ کی آبزرویشنز

کیسیشن کورٹ نے نچلی عدالتوں کے فیصلے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں نے محکمہ صحت کی وہ سرکاری سند نظرانداز کی جس کے مطابق ملازمہ ایک مریض کے ہمراہ حکومتی اسپانسرشپ پر بیرون ملک طبی چھٹی پر تھیں۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ کمپنی نے ملازمہ کی غیر حاضری کے حوالے سے کوئی باقاعدہ انکوائری نہیں کی تھی اور دوران غیر حاضری مسلسل تنخواہیں ادا کرتی رہی، جسے عدالت نے ملازمہ کی چھٹی کی خاموش منظوری قرار دیا۔

عدالت کے مطابق، ملازمہ نے روانگی سے قبل تمام متعلقہ دستاویزات جمع کروا کر نیک نیتی سے عمل کیا تھا، لہٰذا اسے کمپنی کی انتظامی ناکامی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

حتمی فیصلہ

18 جون 2025 کے فیصلے میں کیسیشن کورٹ نے کمپنی کا تنخواہ واپسی کا مطالبہ مسترد کر دیا اور مقدمہ ملازمہ کے حق میں بند کرنے کا حکم دیا۔ البتہ نچلی عدالت کا فیصلہ جس میں ملازمہ کو Dh33,536 بطور استعمال نہ ہونے والی چھٹیوں اور Dh70,129 بطور نوٹس پیریڈ تنخواہ دینے کا حکم دیا گیا تھا، برقرار رکھا گیا۔ مجموعی طور پر ملازمہ کو Dh103,665 کی رقم ادا کی جائے گی۔

عدالت نے کمپنی کو عدالتی اخراجات اور وکیل کی فیس میں Dh1,000 ادا کرنے اور اپیل ڈپازٹ واپس کرنے کا بھی حکم دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button