متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں شدید گرمی کے باعث جنازوں کے اوقات میں تبدیلی، سوگواروں کی صحت کے تحفظ کیلئے اقدام

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی اور مسلسل بڑھتی ہوئی نمی کے پیش نظر عوام کو دن کے درمیانی اوقات میں نماز جنازہ اور تدفین کے انعقاد سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ سوگواروں کو گرمی سے متعلق صحت کے خطرات سے بچایا جا سکے۔ جنرل اتھارٹی برائے اسلامی امور، اوقاف اور زکوٰۃ نے حال ہی میں ایک عوامی ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ جنازے کے مراحل صبح سویرے یا غروب آفتاب کے بعد مکمل کیے جائیں، جب سورج کی تپش کم ہوتی ہے۔

عبداللہ حسین المرزوقی، جو @Janaza_UAE کے نام سے انسٹاگرام اور X (ٹوئٹر) پر رضاکارانہ طور پر جنازوں کے اعلانات کرتے ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے عوامی رویے میں واضح تبدیلی دیکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’زیادہ تر لوگ اپنے پیاروں کی تدفین عصر یا مغرب کے بعد کر رہے ہیں، جو عام طور پر شام 3:53 بجے کے بعد ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو شدید گرمی ہے اور دوسری یہ کہ دن کے ابتدائی اوقات میں لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جنازے میں شرکت کر سکیں اور آخری رسومات ادا کر سکیں۔‘‘

المرزوقی گزشتہ ایک دہائی سے یہ رضاکارانہ خدمت انجام دے رہے ہیں تاکہ لوگ بروقت جنازوں میں شرکت کر سکیں اور تعزیت پیش کر سکیں۔

اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جنازوں کے انعقاد سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ دھوپ میں طویل قیام کے باعث پانی کی کمی، ہیٹ اسٹروک اور دیگر پیچیدگیوں کے خطرات سے بچا جا سکے۔ اتھارٹی نے کہا، ’’انسانی جان کا تحفظ اسلامی قانون کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے‘‘ اور متحدہ عرب امارات کی قیادت اس اصول کی پاسداری قانون سازی اور عوامی صحت کے اقدامات کے ذریعے کرتی ہے۔

یہ اقدام گرمیوں کے دوران بیداری مہم کا حصہ ہے۔ رواں سال کے آغاز میں اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ مساجد اور عوامی مقامات پر سایہ دار جگہیں فراہم کی جائیں گی تاکہ شدید گرمی کے دوران عوام کو کچھ ریلیف دیا جا سکے۔

چونکہ جنازوں میں اکثر کھلی جگہوں پر نماز اور تدفین کی رسومات ادا کی جاتی ہیں، اس لئے طویل عرصے تک سورج کی تپش میں رہنا سوگواروں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے جنازوں کے اوقات کو دن کے ٹھنڈے حصوں تک محدود کرنے کی حمایت کی ہے۔

X پر ایک صارف @MohdKhoro نے لکھا: ’’واقعی، ظہر کے بعد کا موسم بہت گرم ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ تدفین فجر کے بعد یا غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے کی جائے۔‘‘

ایک اور صارف @salem_rashed90 نے کہا: ’’دوپہر کے وقت جنازہ رکھنا بزرگ افراد کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ تدفین عصر یا فجر کے بعد کی جائے۔‘‘

سیلم نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ غمزدہ اور جذباتی ہوتے ہیں، لیکن حفاظت بھی اہم ہے۔ اگر تدفین چند گھنٹے تاخیر سے کرنے سے کسی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکتا ہے تو یہی درست فیصلہ ہے۔‘‘

متحدہ عرب امارات میں جنازوں کے اوقات گرمی سے بچاؤ کیلئے صبح اور شام کے ٹھنڈے اوقات تک محدود کر دیئے گئے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button