متحدہ عرب امارات

یو اے ای: مجرمانہ مقدمے میں 3 لاکھ درہم ہرجانے کے بعد مزید رقم کے لیے اپیل سپریم کورٹ نے مسترد کر دی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی کورٹ آف کیسیشن نے ایک شخص کی اپیل مسترد کر دی ہے جس نے پہلے ہی مجرمانہ مقدمے میں ہرجانے کے طور پر حاصل کی گئی رقم کے بعد مزید معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب ابوظہبی کی فوجداری عدالت نے پہلے فریق کو مجرم قرار دیا اور فیصلے کے تحت متاثرہ شخص (جو اب اپیل کنندہ ہے) کو 51 ہزار درہم بطور عبوری معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں متاثرہ شخص نے مادی اور اخلاقی نقصانات کے ازالے کے لیے دیوانی مقدمہ دائر کیا جس پر عدالت نے کیس کا جائزہ لیتے ہوئے متاثرہ شخص کے حق میں 3 لاکھ درہم بطور ہرجانہ منظور کیے۔

عدالتی فیصلے میں جرم کی نوعیت اور متاثرہ شخص کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں، بلکہ صرف عمومی طور پر مادی اور اخلاقی نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے۔

اپیل کنندہ نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مزید رقم کے لیے اپیل دائر کی، مگر کورٹ آف کیسیشن نے 23 جولائی کو دیے گئے اپنے حتمی فیصلے میں اپیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ 3 لاکھ درہم کا ہرجانہ مناسب اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ فوجداری عدالت کے فیصلے حقائق کو ثابت کرنے کے حوالے سے حتمی ہوتے ہیں اور انہیں دیوانی عدالت میں دوبارہ نہیں پرکھا جا سکتا۔

اپیل کنندہ کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو محض شواہد کے جائزے پر اختلاف رائے قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا کیونکہ ایسے اعتراضات اپیل کے قانونی جواز کے زمرے میں نہیں آتے۔

عدالت نے اپیل کنندہ پر عدالتی اخراجات اور فیسیں بھی عائد کیں اور اپیل انشورنس ضبط کرنے کا حکم دیا۔

عدالت کا یہ فیصلہ اس امر کی توثیق کرتا ہے کہ ابتدائی عدالت نے تمام قانونی نکات اور شواہد کا جائزہ لے کر 3 لاکھ درہم ہرجانے کا درست اور منصفانہ فیصلہ دیا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button