متحدہ عرب امارات

شارجہ میں سرکاری ملازمین کی پروبیشن مدت 9 ماہ کر دی گئی

خلیج اردو
شارجہ حکومت نے نئے سرکاری ملازمین کی پروبیشن (آزمائشی) مدت چھ ماہ سے بڑھا کر نو ماہ کر دی ہے۔ انسانی وسائل کے قانون کے تحت متعارف کرائی گئی اس نئی ایگزیکٹو ریگولیشن کا مقصد اماراتی ملازمین کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے لیے مزید وقت دینا ہے۔

اس میں مزید تین ماہ کی توسیع متعلقہ ادارے کی منظوری سے کی جا سکتی ہے، جو ملازم کی تقرری کی تاریخ سے لاگو ہو گی۔ یہ فیصلہ شارجہ کے حکمراں شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کی ہدایت پر انسانی ہمدردی اور سماجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

شارجہ کے ہیومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عبداللہ ابراہیم الزعابی نے بتایا کہ نئے ضوابط کے تحت تمام سرکاری اداروں کو اپنے تنظیمی ڈھانچے کی تجاویز تیار کر کے متعلقہ کمیٹیوں کو منظوری کے لیے جمع کرانی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر محکمے یہ عمل مکمل کر چکے ہیں جبکہ چند محکمے باقی ہیں۔ ملازمتوں کی وضاحت اور درجہ بندی کے لیے ایک جامع مینوئل بھی جاری کیا جائے گا جسے ہیومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ مرکزی طور پر سنبھالے گا۔

نئے ضوابط کے مطابق اماراتی شہریوں اور اماراتی ماؤں کے بچوں کے لیے مخصوص یا نئی تخلیق کردہ ملازمتوں میں بھرتی کو ترجیح دی جائے گی، بشرطیکہ امیدوار ملازمت کے تقاضے پورے کرتے ہوں۔

مزید برآں، معذور افراد کی بھرتی کے لیے واضح اصول اور طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں۔ الزعابی نے کہا کہ شارجہ کے حکمراں نے ہمیشہ معذور افراد کو تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں مکمل سہولیات اور مواقع فراہم کرنے کو ترجیح دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ معذور افراد کی ایک بڑی تعداد نے بیچلر، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کر لی ہے، اور انہیں سرکاری ملازمتوں میں سہولت دینے کے لیے سازگار ماحول مہیا کیا جا رہا ہے۔

نئے ضوابط کے تحت سرکاری محکموں میں متعدد داخلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جن میں ایمرجنسی اور کرائسز کمیٹی، ملازمین کی شکایات اور نظم و ضبط کی کمیٹیاں شامل ہیں۔ ہر کمیٹی میں کم از کم تین ارکان ہوں گے۔

ایک سپریم ہیومن ریسورسز کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو قانون سازی، انسانی وسائل کے معاملات کا جائزہ لے کر ایگزیکٹو کونسل یا حکمراں کی جانب سے بھیجے گئے معاملات پر سفارشات پیش کرے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button