متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کیلئے مہنگا سفر، کچھ ایئرلائنز نے کرایوں میں خصوصی رعایت کی پیشکش کردی

خلیج اردو
دبئی: گرمیوں کی تعطیلات کے دوران بھارت اور یو اے ای کے درمیان ہوائی کرایوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث ائر انڈیا اور ائر انڈیا ایکسپریس نے سستے ٹکٹوں کی پیشکش کی ہے جو دیگر ایئرلائنز کے مقابلے میں پچاس فیصد تک کم ہیں۔ تاہم، حالیہ حادثات، تاخیر اور پروازوں کی منسوخی کے باعث مسافروں میں ان ایئرلائنز کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

جون 12 کو احمدآباد سے لندن گیٹ وک جانے والی ائر انڈیا کی پرواز AI171 کے حادثے نے مسافروں کو مزید محتاط کر دیا ہے۔ افسوسناک واقعے میں 241 مسافر اور 19 زمینی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حادثے کے بعد سے سوشل میڈیا پر تاخیر، خراب ایئر کنڈیشننگ اور منسوخیوں کی متعدد ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جس سے مسافروں کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

ائر انڈیا ایکسپریس کے ترجمان نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ بڑھتی ہوئی پروازوں کے سبب بعض اوقات تکنیکی مسائل پیش آ سکتے ہیں، تاہم ان کا حل ترجیحی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق ائر انڈیا اور ائر انڈیا ایکسپریس بدستور یو اے ای اور بھارت کے درمیان مسافروں کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

کرایوں کے اعتبار سے، اگست کے پہلے ہفتے میں ائر انڈیا کے ٹکٹ دیگر ایئرلائنز کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستے ہیں۔ دبئی سے ممبئی کا یکطرفہ ٹکٹ 291 درہم، چنئی کے لیے 734 درہم، بنگلور کے لیے 393 درہم (ایک اسٹاپ اوور) اور ترواننتاپورم کے لیے 403 درہم میں دستیاب ہے۔

ٹریول ایجنٹس کے مطابق حادثے اور دیگر مسائل کے باوجود بہت سے لوگ کم کرایوں کی وجہ سے ان ایئرلائنز کے ساتھ سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم کچھ مسافر، خاص طور پر وہ جو خاندان کے ساتھ سفر کرتے ہیں، دوسرے آپشنز کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ کسی قسم کی ذہنی کوفت سے بچ سکیں۔

دبئی کے رہائشی احمد علی نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ سفر کرتے ہیں اور دوست کے خراب تجربے کے بعد انہوں نے دوسری ایئرلائن کا انتخاب کیا۔ اسی طرح چیراغ، جو ہر سال اپنے والدین سے ملاقات کے لیے کوچی جاتے ہیں، نے کہا کہ مقامی ایئرلائنز کی سروس قدرے مہنگی ضرور ہے لیکن سکون اور اعتماد فراہم کرتی ہے۔

ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ صورتحال نے طلب کو متاثر کیا ہے، مگر ائر انڈیا اور ائر انڈیا ایکسپریس کے وسیع نیٹ ورک اور پروازوں کی تعداد کے باعث یہ وقتی مسئلہ ہے اور جلد حالات معمول پر آ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button