
خلیج اردو
راس الخیمہ: راس الخیمہ میں کچھ خریداروں نے شکایت کی ہے کہ دکانوں میں شیلف پر درج قیمت اور کاؤنٹر پر چیک آؤٹ کے وقت وصول کی جانے والی قیمت میں فرق پایا گیا ہے، جس پر محکمہ اقتصادی ترقی (DED) نے تاجروں کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
کمرشل کنٹرول اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈویژن کی افسر نصرہ محمد المری نے بتایا، "مثال کے طور پر کوئی پروڈکٹ جو شیلف پر 10 درہم میں درج ہے، وہ چیک آؤٹ پر 11.50 درہم میں اسکین ہو سکتی ہے۔ صارف کی شکایت پر ہم تحقیقات کر کے دکان سے رابطہ کرتے ہیں اور بعض اوقات قانونی تقاضے کے مطابق جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔”
یہ شکایات صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے جاری آگاہی مہمات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ نصرہ المری نے رہائشیوں کو مشورہ دیا کہ خریداری کے وقت قیمتوں کو بغور چیک کریں، خاص طور پر وارنٹی والی اشیاء کی رسیدیں محفوظ رکھیں اور پروڈکٹس کی ایکسپائری ڈیٹس کی تصدیق ضرور کریں۔
’ہیپی شاپر‘ مہم — صارفین میں شعور بیداری
صارفین میں ذمہ دارانہ خریداری کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے محکمہ اقتصادیات نے ’ہیپی شاپر‘ مہم کا آغاز کیا، جو دو ہفتے تک جاری رہی۔ اس مہم میں راس الخیمہ یوتھ سینٹر اور کلچرل سینٹر سے منسلک سمر کیمپ کے طلبہ نے بھی حصہ لیا۔ کرامہ مارکیٹ اور الخلیج مارکیٹ میں منعقدہ اس مہم میں طلبہ نے خریداروں کو قیمتیں چیک کرنے، رسیدیں سنبھالنے اور خریداری کے بعد قیمتوں کی تصدیق کرنے کی ترغیب دی۔
11 سالہ فہد احمد، جو اس مہم کا حصہ تھے، نے کہا، "میں نے سیکھا کہ پروڈکٹس کی ایکسپائری ڈیٹس چیک کرنا، معیار کا اندازہ لگانا اور ہر خریداری کے بعد رسید لینا ضروری ہے تاکہ کوئی مجھے دھوکہ نہ دے سکے اور میں ضرورت پڑنے پر چیز واپس کر سکوں۔”
فہد نے مشروبات اور سنیکس کے سیکشن میں قیمتوں کے تقابل کا عملی تجربہ بھی حاصل کیا۔ محتاط خریداروں کو دکانداروں کی جانب سے تحائف سے بھی نوازا گیا۔
ماحولیاتی شعور — سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کی کوششیں
ماحولیاتی تحفظ و ترقیاتی اتھارٹی کی فاطمہ طالب نے بتایا کہ صارفین کو خریداری کے وقت بار بار استعمال ہونے والے بیگز لانے، ایکسپائری ڈیٹس چیک کرنے اور سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال سے گریز کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے تاکہ راس الخیمہ کو مکمل طور پر پلاسٹک فری بنانے کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
DED کی جانب سے مارکیٹوں میں باقاعدہ معائنے اور آن لائن آگاہی مہمات بھی جاری ہیں تاکہ صارفین کو خریداری کے دوران مکمل اعتماد فراہم کیا جا سکے۔ نصرہ المری نے کہا کہ صارفین کو کسی بھی شکایت کی صورت میں محکمہ سے فوری رابطہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بعض صارفین صرف ضروری اشیاء خریدنے تک محدود رہتے ہیں، لیکن پروموشنز اور آفرز کے زیر اثر بعض اوقات غیر ضروری اشیاء خرید لیتے ہیں۔ محکمہ اقتصادیات چاہتا ہے کہ ان مہمات کے ذریعے صارفین کو صرف زائد وصولی سے ہی نہیں بلکہ غیر ضروری خریداری سے بھی بچایا جا سکے تاکہ وہ دانشمندانہ اور محتاط خریداری کی جانب راغب ہوں۔






