
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں اگست کے مہینے میں درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے باعث ملک سال کے سب سے شدید گرم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران باہر نکلنا گویا قدرتی سونا باتھ جیسا احساس دلاتا ہے، مگر اس میں سکون کا کوئی عنصر نہیں ہوتا۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاہم ہزاروں ملازمین کے لیے دفاتر پہنچنے کے لیے شدید گرمی میں سفر کرنا ایک مجبوری بن چکا ہے۔
المرزم سیزن کے دوران، جو 29 جولائی کو میرزم ستارے (سریئس) کے طلوع ہونے کے ساتھ شروع ہوا، ملک بھر میں خشک گرم ہوائیں اور جھلسا دینے والے درجہ حرارت کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہ صورتحال 10 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
دبئی کی رہائشی اور ویڈیو ایڈیٹر، سوسیلی فوینٹس نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کے ملازمین کے لیے لچکدار ورک فرام ہوم پالیسی نا صرف ملازمین کی فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہو سکتی ہے بلکہ ان کی کارکردگی میں بھی اضافہ کرے گی۔ انہوں نے تجویز دی کہ وہ کمپنیاں جو مکمل طور پر ریموٹ ورک کی سہولت فراہم نہیں کر سکتیں، انہیں کم از کم گرمیوں کے مہینوں میں ملازمین کو ہفتے میں ایک یا دو دن گھر سے کام کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
گرمی اور صحت پر اثرات کے حوالے سے طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کی شدت سے بے ہوشی، پانی کی کمی، جلد جھلسنے، تھکن اور دل یا گردے کے مریضوں کی حالت بگڑنے جیسے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
الرفاع کی رہائشی بھارتی نژاد نیہا، جو ڈیٹا سائنٹسٹ ہیں، روزانہ دبئی فیسٹیول سٹی تک ایک گھنٹے کا سفر کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرم فرش، بھیڑ بھاڑ اور سفر کے دوران جسم پسینے میں شرابور ہو جاتا ہے جس سے دن کے آغاز میں ہی تھکن طاری ہو جاتی ہے۔ نیہا نے کہا کہ گرمیوں کے دوران ہائبرڈ ورک ماڈل کا نفاذ نہ صرف پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے بلکہ دبئی کے شفاف اور ہمدرد معاشرے کی عکاسی بھی کرے گا۔
سافٹ ویئر ڈیزائنر طلال منصور، جو القوز میں کام کرتے ہیں، نے کہا کہ گرمی کے دوران رش کے اوقات میں ایئر کنڈیشنڈ بس اسٹینڈز میں جگہ نہ ملنے سے لوگوں کو دھوپ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملازمین کو ہفتے میں کم از کم دو دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔
وزارت صحت و تحفظ (MoHAP) نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرمی کے موسم میں ہلکے اور سانس لینے کے قابل کپڑے پہنیں، دھوپ کے اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں، پانی اور دیگر تازگی بخش مشروبات زیادہ مقدار میں استعمال کریں، اور جلد کے تحفظ کے لیے سن اسکرین کا استعمال لازمی کریں۔
حکومت کے اقدامات کے تحت دبئی میں سرکاری ملازمین کے لیے 1 جولائی سے 12 ستمبر تک لچکدار اوقات کار کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت ملازمین کو ہفتہ وار پانچ دن کے دوران مختلف اوقات کار میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کچھ نجی کمپنیاں بھی جزوی ہائبرڈ ورک ماڈل فراہم کر رہی ہیں، جیسا کہ تِش تاش کمیونیکیشنز کی بانی ناتاشا ہیثرال نے بتایا کہ ان کی کمپنی ملازمین کو سال میں چار ہفتے “کہیں سے بھی کام کرنے” کی سہولت دیتی ہے۔
ناتاشا کا کہنا تھا کہ مکمل ورک فرام ہوم کے بجائے جزوی ہائبرڈ ماڈل زیادہ موزوں ہے کیونکہ دفتر میں ملاقات اور ٹیم ورک کے فوائد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ گرمی اس خطے کی حقیقت ہے جسے قبول کرنا چاہیے، تاہم کمپنیوں کو بھی ہمدردی کے ساتھ لچکدار پالیسیز اپنانے پر غور کرنا چاہیے۔







