متحدہ عرب امارات

یو اے ای: مردوں میں زچگی کے بعد ڈپریشن کو نظر انداز کرنا آسان، عالمی سطح پر 8 سے 10 فیصد والد متاثر

خلیج اردو
دبئی: 5 اگست 2025
دبئی کے رہائشی ایم ایچ جب پہلی بار باپ بنے تو وہ خوشی اور اطمینان کی توقع کر رہے تھے، مگر انہیں ڈپریشن کے ایسے علامات کا سامنا ہوا جس نے ان کے رشتوں، کام اور بچے سے تعلق کو متاثر کیا۔ چھ ماہ بعد ایم ایچ نے مدد طلب کی جب بے بسی اور خود پر تنقید کے جذبات شدت اختیار کر گئے۔

مدکیئر کمالی کلینک کی کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر عائدہ سہیمی کے مطابق، تھراپی نے انہیں جذبات سمجھنے اور عملی حکمت عملی اپنانے میں مدد دی، جس سے ان کے اعتماد اور خاندان سے تعلق میں بہتری آئی۔

انٹرنیشنل ماڈرن ہسپتال دبئی کی گائناکالوجسٹ ڈاکٹر میرا ٹی اینٹو نے بتایا کہ دنیا بھر میں 8 سے 10 فیصد والد زچگی کے بعد ڈپریشن (PPD) کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ کچھ مطالعات میں 3 تا 6 ماہ کے عرصے میں یہ شرح 25 فیصد تک دیکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر عائدہ کے مطابق اگر والدہ بھی PPD میں مبتلا ہوں تو والد کے متاثر ہونے کے امکانات 50 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

بیشتر کیسز رپورٹ نہیں ہوتے
ماہرین نے کہا کہ والدوں میں PPD کے کیسز اکثر رپورٹ نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر ہولی شینن کے مطابق، مرد افسردگی کے ساتھ اداسی، بے چینی، چڑچڑاپن، نیند اور کھانے پینے کے معمولات میں تبدیلی کا شکار ہوتے ہیں، مگر روزمرہ کی مصروفیات میں یہ علامات نظر انداز ہو جاتی ہیں۔

ڈاکٹر میرا نے وضاحت کی کہ والدوں میں PPD کی تشخیص کے لیے "ایڈنبرا پوسٹ نیٹل ڈپریشن اسکیل” یا دیگر عمومی ڈپریشن اسکیلز استعمال کیے جاتے ہیں، مگر زیادہ تر جگہوں پر والدوں کی سکریننگ نہیں ہوتی کیونکہ صحت کے نظام کا زیادہ فوکس ماؤں پر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عائدہ کے مطابق، یہ ڈپریشن زندگی کے دباؤ، شناخت میں کمی اور دیگر عوامل کے مجموعے کی وجہ سے ہوتا ہے اور اکثر کیسز میں والدوں کا PPD پہچانا یا علاج نہیں کیا جاتا۔

مدد حاصل کریں
ڈاکٹر میرا نے مردوں پر زور دیا کہ وہ ذہنی صحت کے لیے مدد طلب کریں۔ انہوں نے کہا کہ دبئی میں "تکلم” اور "مائنڈفورس DXB” جیسے آن لائن پلیٹ فارمز موجود ہیں جو ذہنی صحت کی ورچوئل سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مردوں کو ذہنی صحت کے بارے میں خاموشی توڑنی چاہیے اور سماجی دباؤ کے خلاف کھڑے ہو کر اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر عائدہ نے کہا کہ نئے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی پرورش میں شامل ہوں، دوسرے والدوں کے ساتھ میل جول رکھیں اور پیشہ ورانہ مدد لیں۔

ڈاکٹر ہولی نے کہا کہ جس طرح مائیں جذباتی سہارا چاہتی ہیں، ویسے ہی نئے والدوں کو بھی ضرورت ہوتی ہے۔ "جوڑوں کو وقت نکال کر ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے تاکہ وہ اس سفر میں ایک دوسرے کو زیادہ سپورٹ کر سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button