
خلیج اردو
دبئی – متحدہ عرب امارات میں فلپائنی تارکین وطن کے لیے ایک سہولتی ایونٹ اس وقت بدنظمی اور مایوسی کا باعث بن گیا جب اتوار، 3 اگست کو دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقدہ او ایف ڈبلیو سروس کارواں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یہ ایونٹ فلپائنی وزارت برائے مہاجر مزدور (DMW) نے مختلف سرکاری اداروں کو ایک جگہ لا کر اوورسیز فلپائنی ورکرز کو قانونی، مالی اور فلاحی خدمات کی فراہمی کے لیے منعقد کیا تھا، لیکن منتظمین کی ناقص تیاری نے شرکاء کو کئی گھنٹے قطاروں میں کھڑا رکھا۔
شرکاء نے اس ایونٹ کو "بدنظمی اور افراتفری” سے تعبیر کیا۔ ایک رہائشی کے مطابق وہ صبح 8:30 پر پہنچے تو لائن پہلے ہی عمارت کے گرد لپٹی ہوئی تھی۔ نہ کوئی واضح اشارے تھے، نہ عملہ، اور نہ ہی کوئی مؤثر نظام۔ ایک اور رہائشی نے بتایا کہ وہ تین گھنٹے تک ہال کے باہر قطار میں کھڑے رہے، جبکہ کچھ افراد 11 گھنٹے بعد اپنی سروس مکمل کرا سکے۔
زیادہ تر شکایات کا محور خدمات کے لیے مخصوص علیحدہ مقامات کی عدم موجودگی اور قطاروں کے غیر منظم نظام پر تھا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ QR کوڈ سے ڈیجیٹل قطار نمبر ملنے کے باوجود اندر داخل ہونے کے بعد ہر طرف انتشار نظر آیا اور لوگ کسی ترتیب کے بغیر لائنوں میں کھڑے تھے۔
تاہم کچھ شرکاء نے مثبت تجربات بھی شیئر کیے۔ ایک خاتون نے بتایا کہ وہ صبح 6 بجے پہنچ گئیں، جس کی وجہ سے وہ بھیڑ سے پہلے اپنی خدمات مکمل کرا سکیں۔ ان کے مطابق ہال 8 میں اندرونی نظام نسبتاً بہتر تھا۔
منتظمین کی وضاحت: توقع سے زائد ہجوم
دبئی میں فلپائنی لیبر دفتر کے لیبر اتاشی جان ریو باؤٹسٹا نے تسلیم کیا کہ ایونٹ میں ہجوم ان کی توقع سے کہیں زیادہ تھا۔ ان کے مطابق، منتظمین نے تقریباً 2,000 افراد کی آمد کی امید کی تھی، مگر 6,000 سے زائد افراد پہنچ گئے۔ فلپائنی سوشل کلب کے 200 رضاکاروں کی مدد کے باوجود صورت حال قابو سے باہر ہو گئی۔
باؤٹسٹا نے بتایا کہ دبئی پولیس، کمیونٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ورلڈ ٹریڈ سینٹر، قونصل جنرل مارفورڈ اینجلس، اور فلپائنی سفیر الفانسو ویر نے ہالز کے باہر خود قطاریں منظم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود، بعض شرکاء کو کئی گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔
نئے اقدامات کی ضرورت
DMW کے مطابق، ایونٹ میں 5,742 افراد کو خدمات فراہم کی گئیں اور 11,383 سے زائد لین دین ریکارڈ کیے گئے۔ آخری سروس پیر، 4 اگست کی صبح 1:45 بجے مکمل ہوئی۔
حکام نے آئندہ کے لیے بہتر منصوبہ بندی پر زور دیا ہے جس میں لازمی پری رجسٹریشن، روزانہ محدود گنجائش، اور ایونٹ کو دیگر امارات تک وسعت دینے یا کئی دنوں پر پھیلانے کی تجاویز شامل ہیں۔ اگلا کارواں ابوظہبی میں طویل دورانیے کے ساتھ منعقد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔







