متحدہ عرب امارات

اماراتی باہمت خاتون نے حکومتی پروگرام کے ذریعے ملازمت حاصل کرلی

خلیج اردو
ابوظہبی: برسوں سے وکیل بننے کا خواب دیکھنے والی 28 سالہ حوراء العلی اپنی جسمانی معذوری اور بولنے میں دقت کے باعث یونیورسٹی میں داخلہ نہ لے سکیں، لیکن اب ایک حکومتی پروگرام کے تحت وہ زندگی میں نئی امید کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔

العلی نے بتایا کہ وہ پیدائش کے وقت آکسیجن کی کمی کا شکار ہوئیں، جس کی وجہ سے وہ وہیل چیئر کی محتاج ہو گئیں۔ انہوں نے نارمل اسکول سے تعلیم حاصل کی اور ہائی اسکول مکمل کیا، مگر یونیورسٹی میں داخلہ نہ لے سکیں۔ وہ کہتی ہیں: "اس پروگرام میں شامل ہونے سے پہلے میری زندگی بس کھانے اور سونے تک محدود تھی، لیکن اب میں ایک اہم کام کر رہی ہوں۔”

وہ "عَطْمَة” پروگرام کا حصہ ہیں، جو اماراتی معذور افراد کے لیے ایک روزگار فراہم کرنے کا حکومتی منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کو اتھارٹی آف سوشل کنٹریبیوشن (معاً) نے زاید ہائر آرگنائزیشن اور سوشل انٹرپرائز "ائم انکلوسیو” کے اشتراک سے شروع کیا۔ پروگرام کے دوسرے مرحلے میں اب تک 55 سے زائد اماراتی افراد ملازمت حاصل کر چکے ہیں۔

العلی نے ابوظہبی کے دسِت تھانی ہوٹل کے اکاؤنٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت حاصل کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کرنا پسند ہے، اگرچہ کبھی کبھار وہ ترتیب میں غلطی کر بیٹھتی ہیں، مگر وقت کے ساتھ اپنی غلطیوں کو درست کرنا سیکھ گئی ہیں۔

انہیں اب بھی امید ہے کہ ایک دن وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکیں گی اور دبئی گلوبل ولیج میں اپنی نوڈلز شاپ کھولنے کا خواب پورا کریں گی۔ لیکن فی الحال، ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ ایک فعال اور مفید زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے: "میں نہیں سمجھتی کہ میرے جیسے لوگ خود کو چھپاتے کیوں ہیں، انہیں معاشرے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔”

پروگرام کی سربراہ سائرہ سید نے بتایا کہ العلی نے بارہ ہفتوں کی تربیت کے بعد کئی انٹرویوز دیے اور بالآخر اپنی مستقل مزاجی کے باعث نوکری حاصل کی۔ ہوٹل نے انہیں لچکدار اوقات کار اور ان کی صلاحیتوں کے مطابق ذمے داریاں سونپی ہیں۔

کام سے فارغ وقت میں العلی پارکوں اور مالز میں دوستوں کے ساتھ وقت گزارتی ہیں، رنگ بھرنے، گھوڑے سواری اور نئی زبانیں سیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے خود سے ترکی زبان بھی سیکھی ہے اور گھوڑوں کو اپنا مثبت ساتھی قرار دیتی ہیں۔

العلی کی کہانی کو "معاً” کی ٹی وی سیریز "اہل العطاء” میں بھی دکھایا گیا ہے، جہاں ان کے حوصلے اور محنت کو سراہا گیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button