متحدہ عرب امارات

دبئی منتقلی کے بعد زندگی نے نیا رخ اختیار کیا، معذور پاکستانی خاندان کا عزم و حوصلے سے بھرپور سفر

خلیج اردو
دبئی: پاکستان سے تعلق رکھنے والے محمد ابو بکر پیدائش سے معذور ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ دبئی منتقل ہونے کے بعد ان کی اور ان کے خاندان کی زندگی نے مکمل طور پر بدل کر رکھ دی۔ 32 سالہ محمد اپنی فیملی کے تین افراد میں سے ایک ہیں جو ’اہلِ عزم‘ میں شامل ہیں۔ پیدائش کے وقت ان کی بائیں ٹانگ دائیں ٹانگ سے 30 سینٹی میٹر چھوٹی تھی، جس کی درستگی کے لیے متعدد سرجریاں کی گئیں مگر مکمل کامیابی نہ ہو سکی اور آج بھی وہ جھک کر کھڑے ہوتے ہیں۔

بچپن میں کھیلوں اور تقریبات میں شرکت مشکل تھی جبکہ اسکول اور سماجی محفلوں میں اکثر مذاق اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ بڑے ہونے پر ملازمتوں میں بھی اکثر انہیں صرف کمپنی کی ’امیج‘ کے خدشات کی وجہ سے مسترد کیا گیا، نہ کہ قابلیت کی بنیاد پر۔ ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی اس وقت آئی جب ان کی شادی طالیہ ابو بکر سے ہوئی، جو پیدائشی طور پر دونوں ٹانگوں سے معذور ہیں۔ دونوں مل کر محمد کی والدہ کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جو 2013 میں ایک ٹریفک حادثے کے بعد معذور ہو گئیں۔

محمد کا کہنا ہے کہ اپنے وطن میں معذور افراد کے لیے رویہ حوصلہ افزا نہیں تھا، لیکن دبئی آ کر سب بدل گیا۔ یہاں انہیں مفت پارکنگ، مفت سالک اور عوامی سطح پر عزت و احترام جیسی سہولیات میسر ہیں۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ دبئی ایئرپورٹ پہنچتے ہی ایک سیکیورٹی اہلکار نے انہیں پہچان کر فوری سہولت فراہم کی، جو ان کے لیے ایک خوشگوار پہلا تاثر تھا۔

آج یہ خاندان متحدہ عرب امارات میں خوش اور مطمئن زندگی گزار رہا ہے اور وزارت کمیونٹی ایمپاورمنٹ اور دبئی کمیونٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسے اداروں کی معاونت سے مستفید ہو رہا ہے۔ اگرچہ جسمانی معذوریاں کچھ سرگرمیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں، لیکن یہ خاندان ایک دوسرے کا سہارا بن کر تمام چیلنجز کا مقابلہ کر رہا ہے۔ محمد اپنی پانچ سالہ بیٹی کو اس طرزِ زندگی سے روشناس کرا رہے ہیں تاکہ وہ سمجھے کہ زندگی میں کچھ کمی ہو تو اللہ دوسری نعمتیں ضرور عطا کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button