متحدہ عرب امارات

لگژری گھڑیاں: متحدہ عرب امارات میں سرمایہ اور وراثت کی علامت

خلیج اردو
دبئی – متحدہ عرب امارات میں لگژری گھڑیاں اب محض فیشن کا حصہ نہیں رہیں بلکہ یہ سرمایہ کاری، وراثتی نشانی اور ذاتی کامیابی کی علامت بن گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگی گھڑیوں کی طلب میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجوہات ان کی کمیابی، جذباتی وابستگی اور ثقافتی اہمیت ہیں۔

بین الاقوامی فیملی لائر بائرن جیمز، جو دبئی میں مقیم ہیں، اپنی گھڑیوں کے مجموعے کو محض وقت بتانے والا آلہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے زندگی کے اہم موڑ اور وراثت کا حصہ مانتے ہیں۔ انہوں نے پہلی بڑی خریداری کے طور پر 2006 میں متعارف کرائی گئی پٹیک فلپ ناؤٹلس 5711 حاصل کی، جس کی ابتدائی قیمت تقریباً ایک لاکھ اٹھائیس ہزار درہم تھی، جو آج بہترین حالت میں مارکیٹ میں تین لاکھ سڑسٹھ ہزار سے پانچ لاکھ ستاسی ہزار درہم تک پہنچ چکی ہے۔

واچ ماسٹرو کے شریک بانی کیون غسیمی کے مطابق آج کل لگژری گھڑیاں حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ کچھ ماڈلز تو صرف ویٹ لسٹ پر دستیاب ہوتے ہیں جبکہ نایاب گھڑیاں، جیسے کہ ایک منفرد آڈیمار پیگیٹ رائل اوک ٹوربیون، نیلامی میں کروڑوں درہم میں فروخت ہو سکتی ہیں۔ کیون کا کہنا ہے کہ گھڑی کی اصل قیمت کا اندازہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب کلیکٹرز نیلامی میں کھل کر بولی لگاتے ہیں۔

دبئی میں قائم شو رومز اب گھڑی کی خریداری کو ایک شاندار اور ذاتی تجربے میں بدل چکے ہیں، جہاں خریدار نجی ملاقاتوں، مشاورت اور معروف برانڈز کے انتخاب کا موقع حاصل کرتے ہیں۔ کیون نے سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی سے ایک بڑی کمیونٹی بھی تشکیل دی ہے، جس میں گھڑیوں کے شوقین اور سرمایہ کار شامل ہیں۔

واچ کنسلٹنٹ حسن اخراس کے مطابق خطے میں بلند آمدنی، معاشی اعتماد اور گھڑیوں کو بطور سرمایہ کاری دیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب نوجوان بھی کم عمری میں لگژری گھڑیاں خریدنے لگے ہیں اور مارکیٹ میں اب صرف روایتی برانڈز ہی نہیں بلکہ منفرد مکینزم اور نایاب مواد پر مبنی گھڑیاں بھی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ دبئی اب لگژری کلیکٹیبلز کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں لوگ صرف شہرت کے پیچھے نہیں بلکہ سمجھداری سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button