
خلیج اردو
دبئی – دبئی میں بند ہونے والی گراسپورٹ کرکٹ اکیڈمی کے بعد بالآخر والدین کو ان کی پیشگی فیس کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ کرک کنگڈم بائے روہت شرما، جو اس اکیڈمی کا فرنچائز برانڈ تھا، نے تقریباً 30 والدین کو رقوم واپس کر دی ہیں، جس سے ہفتوں سے جاری غیر یقینی صورتحال کے بعد کچھ سکون ملا ہے۔
ریفنڈ مہم کا آغاز کرنے والے پرتاپ کمار نے کرک کنگڈم کے سی ای او چیتن سوریہ ونشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ فرنچائز پارٹنر گراسپورٹ اسپورٹس اکیڈمی کی ناکامی کا نتیجہ تھا، تاہم پھر بھی والدین کو معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا۔ کئی والدین نے خلیج ٹائمز کی رپورٹ کو اس پیش رفت کا محرک قرار دیا۔
تاہم کوچز کی تنخواہیں تاحال باقی ہیں۔ کم از کم چار کوچز چھ ماہ سے زائد عرصے سے اپنی تنخواہوں کے منتظر ہیں، جن کی مجموعی رقم 51,500 درہم سے زائد ہے۔ سابق سری لنکن انٹرنیشنل چامنی سینویراتنے نے کہا کہ "ہم نے برانڈ اور روہت شرما کے نام پر جوائن کیا، اب امید ہے کہ وہ ہمارا حق بھی ادا کریں گے۔”
چیتن سوریہ ونشی نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ تنخواہوں کی ادائیگی معاہدے کے مطابق فرنچائز پارٹنر کی ذمہ داری تھی، کرک کنگڈم کوچز سے براہِ راست رابطے میں ہے تاکہ مسئلہ حل ہو سکے۔
نئی اکیڈمی کا اعلان
کرک کنگڈم نے متحدہ عرب امارات میں اپنی پہلی مکمل طور پر کمپنی کے زیرِانتظام اکیڈمی کھولنے کا اعلان کیا ہے، جو سابقہ فرنچائز ماڈل سے ہٹ کر ہوگی۔ کمپنی کے لیڈر شپ ٹیم کے سوشیل شرما اکیڈمی کی تیاری اور انتظام کے لیے دبئی منتقل ہوں گے۔ رجسٹریشن 15 اگست سے شروع ہوگی جبکہ اکیڈمی ستمبر میں آغاز کرے گی۔
پرانے والدین میں کچھ نے اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ کچھ نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ پرانے کوچز میں سے دو، فرانکوئس لومبارڈ اور سندیپ وینکٹ رامن، سے نئی اکیڈمی کیلئے بات چیت جاری ہے۔ سندیپ نے کہا کہ کرک کنگڈم کا عالمی تجربہ انہیں کامیاب بنائے گا۔







