متحدہ عرب امارات

ڈالری کمزوری کے تناظر میں سرمایہ کاروں کو پورٹ فولیو کیسے سنبھالنا چاہیے؟

خلیج اردو
دبئی: 2025 کی پہلی ششماہی میں امریکی ڈالر نے پچھلے پچاس سالوں کی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ کمی اس طویل دور کے بعد آئی ہے جس میں امریکی ڈالر مسلسل مضبوط رہا۔ جنوری 2025 میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد، جولائی 2011 کی کم ترین سطح کے مقابلے میں ڈالر تقریباً 50 فیصد مہنگا ہو چکا تھا۔

اب ایک ایسے دور کا آغاز ہو رہا ہے جس میں ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی متوقع ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو گزشتہ پندرہ سالوں کی حکمت عملیوں کو ترک کر کے نئے حالات کے مطابق تیاری کرنا ہوگی۔

ڈالر کی کمزوری کی چند بڑی وجوہات میں اس کی زائد قدر، ریزرو کرنسی کے طور پر اس کا مقام اور امریکہ کی بیرونی ادائیگیوں کی پوزیشن شامل ہیں۔ اگرچہ ڈالر کو عالمی کرنسی کی حیثیت سے ابھی خطرہ نہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں امریکی پالیسیوں اور اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے، جس سے اس کی برتری کو زک پہنچی ہے۔

امریکی حکومت کے مالیاتی اقدامات، خاص طور پر کووڈ کے بعد کے محرک پیکیج، نے اندرون ملک طلب میں اضافہ کیا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا دیا، جس سے ڈالر پر مزید دباؤ آیا۔ اس کمی کو روکنے کے لیے امریکہ کو بڑی مقدار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

اس صورت حال میں سرمایہ کاروں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کو کیسے سنبھالیں۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی کمزوری عام طور پر عالمی سرمایہ کاری کے لیے مثبت ثابت ہوتی ہے، اور خاص طور پر امریکی کے علاوہ دیگر اثاثے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

ایسے میں سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری میں تنوع رکھیں، خاص طور پر ایشیا کے ممالک کی ایکویٹی میں اضافہ کریں، جبکہ امریکی ایکویٹی سے کچھ حد تک پرہیز کریں کیونکہ زیادہ قیمت اور غیر یقینی تجارتی پالیسیوں کے باعث ان پر دباؤ رہ سکتا ہے۔

اسی طرح سونے میں سرمایہ کاری بھی ایک بہتر قدم ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ کمزور ڈالر کی صورت میں سونا روایتی طور پر بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔

دوسرا پہلو کرنسی رسک کا عملی انداز میں انتظام ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکویٹی سرمایہ کاری کے لیے ڈالر کا ہیج کرنا ضروری نہیں کیونکہ کمزور ڈالر سے امریکی کمپنیوں کی غیر ملکی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔

تاہم، بانڈز اور ڈالر میں رکھے گئے ذخائر کے لیے ہیجنگ کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے کیونکہ ان میں کرنسی کا اتار چڑھاؤ منافع پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

تیسرا اہم پہلو سرمایہ کاروں کے جذبات کا نظم ہے۔ مختلف کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے دوران بعض اوقات کسی ایک کرنسی میں نقصان اور دوسرے میں فائدہ ہوتا ہے، اور ایسے میں صبر اور طویل مدتی حکمت عملی پر قائم رہنا ضروری ہے۔

تجربہ کار سرمایہ کار اپنے پورٹ فولیو کی کارکردگی کو مختلف کرنسیوں میں دیکھتے ہیں تاکہ متوازن انداز میں فیصلے کیے جا سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button