
خلیج اردو
دبئی: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاور بینکس پرواز کے دوران سنگین حفاظتی خطرات پیدا کر سکتے ہیں، جن میں زہریلا دھواں خارج ہونا، آگ بھڑکنا یا بڑے دھماکے شامل ہیں۔ امارات ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ یکم اکتوبر سے تمام پروازوں میں پاور بینکس کے استعمال پر پابندی ہوگی۔
این ایف پی اے کی ڈائریکٹر برائے انٹرنیشنل بزنس ڈیویلپمنٹ، مینا ریجن دانا کمال نے بتایا کہ پاور بینکس میں لیتھیم آئن بیٹریاں ہوتی ہیں جن کی توانائی کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔ “جب یہ جسمانی یا حرارتی دباؤ کا شکار ہوں تو یہ زیادہ گرم ہو کر آگ پکڑ سکتی ہیں یا پھٹ سکتی ہیں۔ طیارے کے اندر جہاں کیبن پریشر، درجہ حرارت میں تبدیلی اور محدود آکسیجن بیٹری کی کارکردگی پر اثر ڈال سکتے ہیں، یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔”
امارات سیفٹی لیبارٹری کے جنرل منیجر ڈیوڈ سی نے کہا کہ پاور بینک کے زیادہ گرم ہونے کا خدشہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ امارات نے وضاحت کی کہ مسافروں کو ایک پاور بینک اپنے ساتھ لانے کی اجازت ہوگی لیکن پرواز کے دوران نہ تو اسے ڈیوائس چارج کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا اور نہ ہی جہاز کے پاور سورس سے چارج کیا جا سکے گا۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں طیاروں پر لیتھیم بیٹریوں کے زیادہ گرم ہونے کے اوسطاً ہر دو ہفتے میں تین واقعات پیش آئے، جو 2018 میں ہفتہ وار ایک واقعے سے کہیں زیادہ اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق دھوپ میں زیادہ دیر رکھنا، زیادہ چارجنگ، ناقص وینٹی لیشن یا جسمانی نقصان پاور بینک میں ’تھرمل رن اوے‘ کا سبب بن سکتا ہے، جو بیٹری کے ایک سیل سے شروع ہو کر زہریلی گیس، دھماکے اور ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد حرارت پیدا کر سکتا ہے۔
ایئر لائنز پاور بینکس کو چیک ان لگےج میں رکھنے پر اس لیے پابندی لگاتی ہیں تاکہ اگر کیبن میں کوئی ڈیوائس زیادہ گرم ہو تو عملہ فوری طور پر اس کا پتہ لگا سکے اور کارروائی کر سکے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر معیاری اور بغیر تصدیق شدہ پاور بینکس، جو مختلف ممالک میں تیار ہوتے ہیں، زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔







