
خلیج اردو
دبئی: ایک نئی عالمی رپورٹ کے مطابق دبئی اب اُن دس بڑے شہروں میں شامل ہو گیا ہے جہاں کم از کم 3 کروڑ امریکی ڈالر (تقریباً 83 کروڑ پاکستانی روپے) مالیت کے اثاثے رکھنے والے ارب پتی افراد اپنے دوسرے گھر خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکی بزنس انسائیڈر میں شائع ہونے والی آلٹریٹا کی دولت سے متعلق تازہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا کے 20 بڑے شہروں کی درجہ بندی تیار کی گئی ہے جہاں انتہائی مالدار طبقہ دوسرے گھروں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس فہرست میں لندن اور نیویارک جیسے روایتی مراکز بدستور سرفہرست ہیں، لیکن نیپلز (فلوریڈا)، دبئی اور لزبن جیسے ابھرتے ہوئے مقامات تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔
ویلتھ ایکس اور ریل سائی ڈیٹا بیس پر مبنی اس تحقیق میں تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار انتہائی مالدار افراد کے مستند پروفائلز، جائیداد کے ریکارڈز اور تعلقاتی نیٹ ورکس کا جائزہ لے کر رجحانات کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار جولائی 2025 تک کے ہیں اور ان میں صرف نجی ملکیت والے دوسرے گھر شامل ہیں، جبکہ کارپوریٹ ملکیت یا بنیادی رہائش کو خارج رکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ارب پتی طبقے کے لیے دوسرا گھر اب محض تفریحی رہائش نہیں بلکہ ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جو شاندار طرزِ زندگی، دولت کے تحفظ، ٹیکس کی تنوع کاری اور جغرافیائی سیاسی لچک کا امتزاج فراہم کرتا ہے۔







