
خلیج اُردو
ابوظہبی: نیشنل سینٹر آف میٹیورولوجی (این سی ایم) کے مطابق متحدہ عرب امارات نے 2025 میں اب تک 185 کلاؤڈ سیڈنگ آپریشنز کیے ہیں، جن میں صرف جولائی کے دوران 39 مشنز شامل ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ملک کے مختلف حصوں میں درمیانے سے شدید بارشیں ہوئیں، جن کے ساتھ گرد آلود آندھیاں، دھند اور ابوظہبی و دبئی میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس سے شہریوں کو خوشگوار راحت ملی۔
کلاؤڈ سیڈنگ کا مقصد جدید ٹیکنالوجیز، جیسے ہائیگروسکوپک فلیئرز، نینو مٹیریلز اور الیکٹرک چارج ایمیٹرز کے ذریعے بارش میں 10 سے 25 فیصد اضافہ کرنا ہے۔ این سی ایم کے ماہر موسمیات ڈاکٹر احمد حبیب کے مطابق اس وقت العین کے علاقے میں بادل موجود ہیں اور بارش ہو رہی ہے، لیکن جمعے کے بعد بارش کے امکانات بہت کم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنوری سے جولائی تک 166 پروازیں ہوئیں، جن میں جولائی کی 39 پروازیں بھی شامل ہیں، اس طرح سال کے آغاز سے اب تک کل تعداد 185 تک پہنچ گئی۔
یو اے ای ہر سال 900 گھنٹوں سے زائد کلاؤڈ سیڈنگ مشنز کرتا ہے، جن پر فی گھنٹہ تقریباً 29 ہزار درہم (8 ہزار امریکی ڈالر) لاگت آتی ہے۔ اس مہم میں 12 تربیت یافتہ پائلٹس، چار خصوصی طیارے اور جدید ریڈار و موسمی اسٹیشنز شامل ہیں۔ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ سے ان آپریشنز کی درستگی اور مؤثریت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
کلاؤڈ سیڈنگ کے طریقہ کار کے بارے میں پائلٹ کیپٹن مارک نیومین نے بتایا کہ ایک عام مشن تین گھنٹے تک جاری رہتا ہے، جس میں ہدفی بادل کے نیچے دائرے میں پرواز کر کے نمک کے ذرات چھوڑے جاتے ہیں تاکہ بادل کی چالکتا میں اضافہ ہو اور بارش کے امکانات بڑھ جائیں۔
تحقیقات کے مطابق یو اے ای کی کلاؤڈ سیڈنگ سالانہ 168 سے 838 ملین مکعب میٹر اضافی بارش پیدا کرتی ہے، جس میں سے 84 سے 419 ملین مکعب میٹر پانی قابلِ استعمال ہوتا ہے۔ یہ مقدار ملک کی سالانہ 6.7 ارب مکعب میٹر بارش کا نمایاں حصہ ہے۔ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بیج ڈالے گئے علاقوں میں اوسطاً 23 فیصد زیادہ بارش ہوتی ہے، جو پانی کی قلت کے شکار خطے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
یو اے ای ریسرچ پروگرام فار رین انہانسمنٹ سائنس، جو وزارتِ امورِ صدارت کے تحت چلایا جاتا ہے، دنیا بھر میں بارش بڑھانے کی تحقیق اور پانی کے تحفظ کو فروغ دینے کے لیے ایک عالمی پہل ہے۔ اس پروگرام کی ڈائریکٹر الیا المزروعی کے مطابق اس کی سائنسی اور تکنیکی کامیابیاں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہی ہیں اور پانی کی کمی والے دیگر ممالک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔







