متحدہ عرب امارات

اسرائیلی فضائی حملے میں الجزیرہ کے پانچ صحافی جاں بحق

خلیج اردو
غزہغزہ سٹی کے الشفاء ہسپتال کے قریب اتوار (10 اگست) کی رات اسرائیلی فوج کے ایک ہدفی فضائی حملے میں سات صحافی جاں بحق ہوگئے، جن میں الجزیرہ کے پانچ نمائندے شامل تھے۔

شہید ہونے والوں میں رپورٹر انس الشریف اور محمد قریقیہ شامل ہیں، جو محاذِ جنگ سے اپنی جاندار رپورٹنگ کے ذریعے دنیا کو غزہ کی کہانی سناتے رہے۔ یہ دونوں صحافی ہسپتال کے مرکزی دروازے پر لگے ایک خیمے میں موجود تھے، جو جنگ کے حالات کو قریب سے دیکھنے والوں کے لیے ایک محفوظ جگہ سمجھی جاتی تھی، مگر ایک لمحے میں وہ پناہ گاہ ملبے کے ڈھیر میں بدل گئی۔

ان کے ساتھ کیمرہ مین ابراہیم زاہر، محمد نوفل اور معمن علیوہ بھی شہید ہوئے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے کیمرے نے جنگ کی تلخ ترین حقیقتوں کو دنیا تک پہنچایا۔

محمد قریقیہ نے اپنے سوشل میڈیا پر محبت اور جدائی کی کہانیاں چھوڑ رکھی تھیں۔ ان کی ایک پوسٹ میں وہ زینا اسماعیل الغول کے ساتھ ہیں، جو ایک ماہ قبل اسرائیلی حملے میں اپنے والد کو کھو بیٹھی تھی۔ محمد کی اپنی بیٹی کا نام بھی زینا ہے۔ ان کی شہادت کے بعد دونوں زینا اپنے باپ سے محروم ہو گئیں۔ ایک اور پوسٹ میں محمد نے غزہ کے بچوں کی برباد بچپن کی تصویر کھینچی — بچے جو تفریحی مقامات پر جانے کے بجائے کھنڈرات میں کھیلنے پر مجبور تھے۔

انس الشریف اور محمد قریقیہ ایک سال سے ساتھ کام کر رہے تھے۔ انس نے ایک بار محمد کی ٹیم میں شمولیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ ایک نیا مگر اہم سفر ہوگا۔ آج دونوں ایک ساتھ شہید ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے انس پر حماس کا رکن ہونے کا الزام لگایا، مگر انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافتی تنظیموں نے اسے بے بنیاد قرار دیا۔ انس اپنی براہِ راست رپورٹنگ کے دوران کئی بار جذبات پر قابو نہ رکھ سکے — 20 جولائی کی ایک لائیو نشریات میں بھوک سے بلکتے بچوں کی حالت بیان کرتے ہوئے وہ رو پڑے۔

معمن علیوہ، کیمرہ مین، نے دو ہفتے قبل ایک ماں کی آہ و بکا کا منظر شیئر کیا تھا، جب اس کا بچہ سفید کپڑے میں لپٹا اٹھایا جا رہا تھا۔ چند ہفتے پہلے ہی انہوں نے اپنی مسکراتی ہوئی تصویر پوسٹ کی تھی، جو اب ان کی آخری یادگار بن گئی۔

ابراہیم زاہر اور محمد نوفل بھی ٹیم کا حصہ تھے۔ نوفل نے کبھی کیمرے کے سامنے آنا پسند نہیں کیا، مگر ہر براہِ راست نشریات کے پیچھے ان کا کردار اہم تھا۔ بجلی غائب ہونے اور گولہ باری کے باوجود انہوں نے کیمرے چلتے رکھے۔

یہ پانچوں صحافی اور ان کے ساتھی اپنی زندگیاں قربان کر کے دنیا کو غزہ کی اصل تصویر دکھانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button