
خلیج اردو
دبئی، 13 اگست: متحدہ عرب امارات میں تین دہائیوں سے مقیم فرخ چراغ کے لیے یہ ملک یادوں کا خزانہ ہے۔ ایک ایسے دور کے گواہ کے طور پر جب یہ خطہ صحرا سے بلند و بالا عمارتوں والے جدید شہر میں بدل گیا، وہ اب اپنی چوتھی نسل کے ساتھ یہاں رہائش پذیر ہیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے فرخ چراغ کے مطابق 1995 میں لاہور سے دبئی کا ریٹرن ٹکٹ 620 درہم کا ہوتا تھا جو اب 1700 درہم تک پہنچ چکا ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن دبئی اور ایمریٹس لووز پاکستان کے اشتراک سے 10 اگست کو دبئی ایکسپو سٹی میں پاکستان کا یوم آزادی منایا گیا، جس میں 60 ہزار سے زائد جنوبی ایشیائی باشندوں نے شرکت کی۔ اسی موقع پر خلیج ٹائمز سے گفتگو میں فرخ چراغ نے اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت زندگی سست رفتار تھی مگر سفر بہت تیز اور آسان۔ "میرے پاس گاڑی تھی اور نہ ٹریفک کا مسئلہ تھا نہ پارکنگ کا۔ شارجہ کی الوحدہ اسٹریٹ سے شنداغہ ٹنل کے بعد فالکن راؤنڈ اباؤٹ تک صرف سات منٹ میں پہنچ جاتا تھا۔ رات کو العویر سے شارجہ کا سفر بھی آسان تھا کیونکہ راستے میں نہ رہائشی علاقے تھے نہ ولاز۔”
انہوں نے بتایا کہ اب ترقی اور آبادی میں اضافے کے ساتھ ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ "پہلے ایک دن میں پانچ کام نمٹا لیتے تھے، اب خوش قسمت ہوں تو دو ہی مکمل ہو پاتے ہیں۔ میرا بیٹا رات 8:30 پر دبئی سے نکلتا ہے اور 10 بجے شارجہ پہنچتا ہے۔”
فرخ چراغ نے ٹریفک اور رابطہ بہتر بنانے کے لیے سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں حکومت کی مسلسل سرمایہ کاری کو سراہا اور کہا کہ متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی برادریاں امن و خوشحالی کے ماحول میں رہ رہی ہیں، جس پر وہ قیادت کے شکر گزار ہیں۔






