
خلیج اردو
دبئی: پیک آور سالک ریٹ اور ٹریفک جام سے بچنے کے لیے شہریوں نے تخلیقی طریقے اپنانا شروع کر دیے ہیں۔ پیک آور میں فی کراسنگ 6 درہم کا خرچ، دن میں تین بار گزرنے پر ماہانہ 360 درہم تک لاگت آتی ہے۔ آف پیک میں کراسنگ کا ریٹ 4 درہم جبکہ رات ایک سے صبح چھ بجے تک مفت ہے۔
محمد شریف نے آفس اوقات 7 صبح سے 4 شام تک کر لیے، جس سے پیک آور ٹریفک اور اضافی سالک چارجز دونوں سے نجات ملی۔ عماد حسن شام 5 بجے آفس سے نکل کر الممزّر کے قریب جم جاتے ہیں اور رات 8 بجے کے بعد گھر لوٹتے ہیں تاکہ سالک سے بچ سکیں۔
فیض شام 6:30 سے 8 بجے تک دوستوں کے ساتھ کافی شاپ میں وقت گزارتے ہیں، اس دوران ٹریفک بھی ختم اور ٹول بھی نہیں لگتا۔ احمد المدواری شام کو الممزّر بیچ پر جاگنگ کرتے ہیں، جس سے فٹنس بھی برقرار رہتی ہے اور سالک بھی نہیں دینا پڑتا۔
احمد کے بھائی حسام المدواری صبح 5:30 پر گھر سے نکل کر کائٹ بیچ پر جاگنگ کرتے ہیں، اس طرح سالک فری کراسنگ کے ساتھ دن کا آغاز ہوتا ہے اور شام کا وقت خاندان کے ساتھ گزارتے ہیں۔







