متحدہ عرب امارات

دبئی: نئے تعلیمی سال سے قبل جعلی ملازمت کے اشتہارات، تعلیمی اداروں کی وارننگ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں نئے تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے اسکولوں اور جامعات نے نوکری کے متلاشی افراد کو جعلی ملازمت کے اشتہارات سے خبردار کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، فراڈ گروپس نے اساتذہ اور ایڈمنسٹریٹو پوسٹس کی طلب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آن لائن جعلی نوکریاں مشتہر کی ہیں، جن کے ذریعے یا تو امیدواروں کی ذاتی معلومات چوری کی جاتی ہیں یا پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔

جعلی اشتہارات میں معروف اداروں کے نام

متعدد اداروں نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ ان کے نام استعمال کرتے ہوئے جعلی نوکری کے اشتہارات لگائے گئے، جس سے درخواست دہندگان دھوکے کا شکار ہوئے۔

ووڈلم ایجوکیشن کے بانی و مینیجنگ ڈائریکٹر، نوفل احمد نے کہا:
"ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ادارے کا نام استعمال کرکے آن لائن جعلی اشتہارات دیے جا رہے ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں سے ذاتی یا مالی معلومات لینا ہے۔ ہم عوام کو بار بار خبردار کرتے ہیں کہ صرف ہماری آفیشل ویب سائٹ اور کیریئر پیج پر اعتماد کریں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ آئندہ نوکری کوڈز متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے تاکہ امیدوار محفوظ رہیں۔

اسکولوں کے اقدامات

ابوظہبی کے شائننگ اسٹار انٹرنیشنل اسکول کی پرنسپل، ابھیلاشا سنگھ نے تصدیق کی کہ ان کے اسکول کے نام سے بھی جعلی اشتہارات لگائے گئے۔ انہوں نے کہا:
"یہ اشتہارات امیدواروں کو دھوکہ دینے کے لیے بنائے گئے تھے اور ہم ان کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔”

شائننگ اسٹار اسکول نے بتایا کہ وہ صرف آفیشل ویب سائٹ، Naukri Gulf، Indeed اور LinkedIn پر نوکریاں مشتہر کرتے ہیں۔ تمام آسامیاں QR کوڈز کے ساتھ شائع کی جاتی ہیں تاکہ درخواست دہندگان محفوظ چینل کے ذریعے اپلائی کریں۔

جامعات کے اقدامات

بی آئی ٹی ایس پلانی دبئی کیمپس کے آئی ٹی ہیڈ، سرونا کمار نے بتایا:
"ہمارے ادارے کے نام سے بھی جعلی نوکریوں کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ہماری ایچ آر اور ڈیجیٹل ٹیمیں آن لائن پلیٹ فارمز کو مسلسل مانیٹر کرتی ہیں اور مشکوک اشتہارات رپورٹ کرتی ہیں۔”

کمار نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی کے پاس ایک آفیشل ریکروٹمنٹ پورٹل، ویریفائیڈ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ایچ آر ای میل موجود ہیں جن کے ذریعے امیدوار اصلی مواقع تک پہنچ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button