
خلیج اردو
نئی دہلی: سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس بی سدرشن ریڈی کو اپوزیشن نے نائب صدر کے انتخاب کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے۔ وہ ایک طویل اور نمایاں قانونی کیریئر رکھتے ہیں اور سماجی انصاف، تعلیم تک رسائی اور عدلیہ کی آزادی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
جنوری 2007 سے جولائی 2011 تک وہ سپریم کورٹ کے جج رہے۔ اس سے قبل وہ چیف جسٹس گواہٹی ہائی کورٹ اور آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اپنی عدالتی مدت کے دوران انہوں نے تعلیم کی فراہمی اور عدلیہ کی آزادی پر خصوصی توجہ دی۔
انہوں نے ایسے اقدامات کی مخالفت کی جن سے پسماندہ طبقات کو اعلیٰ تعلیم سے دور رکھا جائے، اور خبردار کیا کہ تعلیم تک رسائی نہ ملنے سے "سماجی ہنگامی صورتحال” پیدا ہو سکتی ہے۔
جسٹس ریڈی نے شفافیت اور عدلیہ کی آزادی کے درمیان توازن پر بھی زور دیا۔ سپریم کورٹ ججز کے اثاثوں کے انکشاف سے متعلق آر ٹی آئی کیس میں انہوں نے معاملہ بڑی بینچ کو بھیجتے ہوئے اہم سوالات اٹھائے۔
بی سدرشن ریڈی 8 جولائی 1946 کو ضلع رنگا ریڈی، آندھرا پردیش میں پیدا ہوئے۔ بی اے ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد 1971 میں وکالت شروع کی اور ہائی کورٹ میں رِٹ اور سول مقدمات میں پیش ہوتے رہے۔ وہ 1988 سے 1990 تک سرکاری وکیل رہے اور کچھ عرصہ کے لیے مرکزی حکومت کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔
اپنی وکالت کے دوران وہ جامعہ عثمانیہ کے قانونی مشیر بھی رہے۔ 1995 میں آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے مستقل جج مقرر ہوئے اور دسمبر 2005 میں چیف جسٹس گواہٹی ہائی کورٹ بنے۔
پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (PIL) سے متعلق رہنما اصولوں کو مزید مضبوط کرنے میں بھی ان کا کردار رہا۔ انہوں نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کے ججز کو محض گمنام خطوط یا درخواستوں پر ازخود نوٹس نہیں لینا چاہیے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد 2022 میں سپریم کورٹ نے انہیں کرناٹک کی مائننگ سرگرمیوں کے لیے "جامع ماحولیاتی منصوبے” کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی۔
نائب صدر کا انتخاب 9 ستمبر کو ہوگا۔ اپوزیشن رہنما ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ یہ "نظریاتی لڑائی” ہے، تاہم این ڈی اے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کو عددی برتری حاصل ہے۔ کھرگے کے مطابق 21 اگست کو کاغذات نامزدگی داخل کیے جائیں گے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی کا اجلاس پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں ہوگا۔
یہ انتخاب اس وقت ضروری ہوا جب موجودہ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے 21 جولائی کو طبی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دے دیا۔







