خلیج اردو
دبئی: فلک پر نمودار ہونے والا سہیل ستارہ، جسے مغربی ماہرین فلکیات "کینپس” (Canopus) کے نام سے جانتے ہیں، دنیا کا دوسرا سب سے روشن ستارہ ہے جو صرف سِریَس (Sirius) کے بعد اپنی چمک کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ سہیل اپنی منفرد روشنی کے سبب سرخ، پیلا اور سبز رنگ جھلملاتا دکھائی دیتا ہے جس کی بنا پر اسے عرب دنیا میں ایک اہم موسمی اور ثقافتی نشان سمجھا جاتا ہے۔
یہ ستارہ زمین سے تقریباً 310 نوری سال کے فاصلے پر "کارینا” کہکشاں میں واقع ہے۔ سورج کے مقابلے میں اس کی روشنی دس ہزار گنا زیادہ ہے جبکہ اس کا حجم سورج سے تقریباً آٹھ گنا بڑا ہے۔ سہیل ستارہ عرب روایات، شاعری اور فلکیات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ابو العلاء المعری نے اسے محبت کے رخسار اور دل کی دھڑکن سے تشبیہ دی جبکہ مشہور ماہر فلکیات عبد الرحمٰن الصوفی نے اپنی کتاب "کتاب صور الکواکب” میں اسے "سہیل الوزن” کے نام سے یاد کیا۔
سہیل عرب دنیا اور خلیجی خطے میں ہر سال اگست کے اوائل سے ستمبر تک دکھائی دیتا ہے۔ یہ طلوعِ آفتاب سے تقریباً 30 سے 50 منٹ قبل جنوب مشرقی افق پر نمودار ہوتا ہے۔ اس کی پہلی جھلک سب سے پہلے سعودی عرب کے علاقے جازان میں تقریباً 7 اگست کو نظر آتی ہے، پھر 24 اگست کو وسطی علاقوں میں اور 8 ستمبر کو شمالی حصوں میں دکھائی دیتی ہے۔
عربی ثقافت میں سہیل کے طلوع کو گرمی کے اختتام اور ٹھنڈے موسم کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی "الصفری” نامی 40 روزہ موسم شروع ہوتا ہے جس میں راتیں ٹھنڈی ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور کھجوروں کی کٹائی، کھجور کے درختوں کی نرگ بندی اور دیگر زرعی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچتی ہیں۔ ملاحوں اور صحرائی مسافروں کے لیے یہ ستارہ قدرتی رہنما بھی رہا ہے۔
لوک کہانیوں اور کہاوتوں میں سہیل کو راحت، خوشحالی اور تبدیلی کی علامت مانا جاتا ہے۔ کہاوت مشہور ہے: "اذا طلع سهیل یبرد اللیل” یعنی "جب سہیل طلوع ہوتا ہے تو راتیں ٹھنڈی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔”







