خلیج اردو
دبئی: کیا ہم نے واقعی اسکول کو پیچھے چھوڑ دیا ہے؟ اکثر دفاتر میں پیش آنے والی صورتحال ایک لمحے میں ہمیں پرانے زمانے کی یاد دلا دیتی ہے۔ کارکردگی پر منفی فیڈ بیک، ساتھیوں کی طرف سے نظرانداز کیا جانا یا میٹنگ سے باہر رکھا جانا — یہ سب احساسات ویسے ہی دکھ دیتے ہیں جیسے کبھی کلاس روم میں تنقید یا ناکامی دیا کرتی تھی۔
دبئی میں مقیم عائشہ خانہ، ایک گھریلو خاتون اور دو بچوں کی ماں، یاد کرتی ہیں کہ نوکری کے دنوں میں ذرا سا تنقیدی فیڈ بیک انہیں اندر سے توڑ دیتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول کے دنوں میں ریاضی اور سائنس میں ناکامی نے اُن کے اندر یہ خوف بٹھا دیا کہ وہ کبھی کافی نہیں کر رہیں۔
ابوظہبی کی رہائشی "رُتھ” (فرضی نام) بتاتی ہیں کہ شروع میں دفتر میں غلطی پر ڈانٹ پڑنے پر وہ رو پڑتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: "مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں پھر سے اسکول میں ہوں۔”
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ اسکول کے دنوں میں ناکامی، عوامی ذلت، بُلنگ یا سخت رویہ شخصیت پر گہرے داغ چھوڑتا ہے جو بڑے ہو کر کام کی جگہ پر بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
ہمنگ برڈ کلینک دبئی سے ماہر نفسیات ڈیانا ماتوق کہتی ہیں: "جب بچے کو بار بار ناکامی، تنقید یا سماجی بائیکاٹ کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی خود اعتمادی اور تعلق کا احساس متاثر ہوتا ہے۔ یہی احساسات بعد میں دفتر میں دوبارہ جاگ اٹھتے ہیں۔”
لائٹ ہاؤس عربیہ دبئی کی مشیر ربیکا کارٹر کہتی ہیں: "اگر بچپن میں کوئی مستقل منفی تجربہ ہوا ہو تو بالغ زندگی میں معمولی سا واقعہ بھی اسی شدت کے ساتھ زخم ہرا کر دیتا ہے۔ خاص طور پر جب دفتر میں باس کی تنقید یا ساتھیوں کی بے رخی کا سامنا ہو۔”
یہ زخم کیوں بعض لوگوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق یہ انفرادی شخصیت، حساسیت، سپورٹ سسٹم اور اُس وقت دیے گئے معنی پر منحصر ہوتا ہے۔ کچھ لوگ مضبوط رشتوں یا مثبت رہنمائی کی وجہ سے جلد سنبھل جاتے ہیں، جبکہ کچھ برسوں تک اس بوجھ کو اٹھائے رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، پرانے زخم آپ کی کیریئر کی راہ بھی بدل سکتے ہیں۔ کچھ لوگ لیڈرشپ کے کرداروں سے بچتے ہیں تاکہ تنقید یا ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے، جبکہ کچھ لوگ پرفیکشنزم اور ضرورت سے زیادہ محنت کے ذریعے اپنی "کمی” پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیسے پہچانیں کہ دباؤ پرانا ہے؟
اگر دفتر میں ملنے والا فیڈ بیک یا کوئی واقعہ غیر متناسب طور پر تکلیف دے، یا پرانے احساسات جگا دے تو سمجھ لیں کہ یہ اسکول کے دنوں کی یاد ہے۔
شفا کے اقدامات
-
شناخت کریں: ردعمل کو نام دیں، اس سے شدت کم ہوگی۔
-
کہانی بدلیں: اپنی کامیابیوں اور طاقتوں پر توجہ دیں۔
-
محفوظ مشق کریں: آہستہ آہستہ ان حالات کا سامنا کریں جو پرانے زخم جگاتے ہیں۔
-
خود سے ہمدردی کریں: اپنے اندر کے بچے کو وہ نرمی دیں جو اسے کبھی نہیں ملی۔
ماہرین کے مطابق، پرانی کہانیاں بدلنا ممکن ہے۔ آگاہی، ہمدردی اور مثبت سوچ کے ذریعے ہم دفتر کے دباؤ کو ماضی کے بوجھ سے الگ کر کے ایک پُراعتماد مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔







