خلیج اردو
دبئی: دبئی میں جائیداد خریدنے کے خواہشمند بھارتی خریدار اکثر پرکشش ڈیلز دیکھ کر اپنے انٹرنیشنل کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرنے لگتے ہیں، لیکن یہ بظاہر آسان راستہ دراصل قانونی پیچیدگیوں اور مالی خطرات سے بھرا ہوا ہے۔
عام خریداری، ہوٹل یا اسکول فیس جیسی روزمرہ اخراجات کے لیے کریڈٹ کارڈ کا استعمال درست ہے، مگر جائیداد خریدنا "سرمایہ کاری” کے زمرے میں آتا ہے جو بھارت کے ریزرو بینک کی لبرلائزڈ ریمیٹنس اسکیم (LRS) کے تحت آتا ہے۔ اس اسکیم میں سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے واضح قانونی تقاضے طے کیے گئے ہیں، جن میں بینک کے ذریعے رقم بھیجنا، فارم A2 جمع کرانا اور ٹیکس کلیکشن ایٹ سورس (TCS) شامل ہیں۔
کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی بظاہر ممکن تو ہے لیکن یہ ریزرو بینک آف انڈیا اور فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (FEMA) کے قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ بھارتی حکام نے حالیہ عرصے میں بیرون ملک جائیداد کی خریداری پر کڑی نگرانی شروع کر دی ہے اور ایسے کئی کیسز میں خریداروں کو شکایات، قانونی نوٹسز اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بھارتی شہری سالانہ صرف ڈھائی لاکھ ڈالر تک LRS کے تحت بیرون ملک بھیج سکتے ہیں، اور ہر جائیداد کی خریداری کو ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کرنا لازمی ہے۔ ان تقاضوں کو نظرانداز کرنے سے مستقبل میں جائیداد کی فروخت، منافع واپس لانے یا حتیٰ کہ ٹیکس اور انکم ٹیکس محکمے کی تحقیقات جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کریڈٹ کارڈ پر زیادہ شرح سود، فارن ایکسچینج مارک اپ اور لیٹ فیس کا مالی بوجھ بھی خریدار کے لیے نقصان دہ ہے۔
ماہرین کے مطابق دبئی میں جائیداد خریدنے کے خواہشمند بھارتی باشندوں کے لیے محفوظ راستہ صرف یہی ہے کہ وہ رقم اپنے بینک کے ذریعے LRS فریم ورک کے تحت بھیجیں۔ اس عمل میں اضافی کاغذی کارروائی ضرور ہے لیکن یہی طریقہ خریدار کو مکمل قانونی تحفظ، شفافیت اور مستقبل میں جائیداد فروخت کرنے یا سرمایہ واپس لانے میں آسانی فراہم کرتا ہے۔







