متحدہ عرب امارات

ترکی کا اسرائیل سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے اور فضائی حدود بند کرنے کا اعلان

خلیج اردو
انقرہ: ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے جمعہ کے روز ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کے غزہ سے متعلق اجلاس میں اعلان کیا کہ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تمام اقتصادی تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے اپنے جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے سے روک دیا ہے اور اسرائیلی طیاروں کے لیے ترک فضائی حدود بھی بند کر دی گئی ہیں۔

ریاستی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ اسرائیل گذشتہ دو برس سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور بنیادی انسانی اقدار کو پامال کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکی فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کرتا ہے اور ایسے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیتا ہے۔

وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے فلسطین پر جاری حملے پورے خطے کو بھڑکا سکتے ہیں۔ ان کے بقول غزہ میں ڈھائے جانے والے مظالم انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مزاحمت تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ مظلوموں کی علامت اور زوال پذیر نظام کو چیلنج کرنے والی قوت ہے۔

خیال رہے کہ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں ماضی میں تعاون اور کشیدگی دونوں دیکھنے میں آئے ہیں۔ دونوں ممالک نے 1949 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اور 1990 کی دہائی میں عسکری، تجارتی اور انٹیلی جنس تعاون عروج پر تھا۔ تاہم 2000 کی دہائی میں اسرائیل کی فلسطینی پالیسیوں کے باعث تعلقات بگڑ گئے، جو بعد میں 2010 کی دہائی کے وسط میں جزوی طور پر بحال ہوئے تھے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button