متحدہ عرب امارات

دبئی: 1990 کی دہائی میں اونم کی یادیں، ملا یالی کمیونٹی نے روایت کو زندہ رکھا

خلیج اردو
58 سالہ کشنور پویتھرن، جو ستمبر 1991 میں پہلی بار متحدہ عرب امارات آئے، اس سال کے اونم کو صرف ایک تہوار نہیں بلکہ 34 سالہ یادوں، عزم اور وابستگی کا جشن قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دبئی میں ابتدائی دنوں میں اونم نہایت سادہ، محدود اور ذاتی نوعیت کا ہوتا تھا۔

کشنور کے مطابق اُس وقت لوگ صبح سویرے اٹھ کر آس پاس کی جھاڑیوں سے پھول چن کر اپارٹمنٹس کے باہر پُوکلَم (پھولوں کی رنگولی) بنایا کرتے۔ چند دوست یا چھوٹے خاندان اپنی ہی باورچی خانوں میں اونم کا روایتی کھانا ’’سادیا‘‘ تیار کرتے اور پارک یا کسی کے گھر جمع ہو کر کیلے کے پتوں پر بیٹھ کر کھانا کھاتے، ہنسی مذاق کرتے اور اپنے قصے سناتے۔ یہ سب گھر سے دور ایک گھر جیسا ماحول پیدا کرتا تھا۔

ابتدائی دنوں میں تقریبات چھوٹے پیمانے پر سوشل سینٹرز یا کمیونٹی ہالز میں ہوتیں۔ تھِرواتھِرا ڈانس، اونم پٹّو (روایتی گیت) اور پھولوں کے مقابلے اس کمیونٹی کو قریب لے آتے۔ ذرائع ابلاغ محدود تھے، مگر خوشی اور اتحاد بے پناہ تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ جیسے امارات ترقی کرتا گیا ویسے ہی اونم کی تقریبات بھی بڑھتی گئیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور بڑھتی ہوئی ملیالی کمیونٹی نے اونم کو چھوٹے فلیٹوں سے بڑے کمیونٹی ہالز تک پہنچا دیا۔ اب ہفتہ وار مختلف تنظیمیں اور ایسوسی ایشنز اپنے سادیا کا اہتمام کرتی ہیں اور یوں اونم کی تقریبات کئی ماہ تک جاری رہتی ہیں۔

کشنور بتاتے ہیں کہ ’’سادیا ہمیشہ اونم کا دل رہا ہے۔ بیس سے تیس مختلف پکوان، اچار اور مٹھائیاں کیلے کے پتوں پر ایک ساتھ پیش کی جاتیں جو سب کو قریب لے آتیں۔‘‘ آج کل یہ تقریبات اتنی بڑی ہو چکی ہیں کہ مشہور گلوکار، رقاص اور فلمی ستارے بھی مدعو کیے جاتے ہیں، اور یوں یہ ایک شاندار ثقافتی میلہ بن گیا ہے۔

اونم نے کشنور کی زندگی کے اہم لمحات بھی محفوظ کیے ہیں۔ بطور کنوارہ وہ دوستوں کے ساتھ سات آٹھ افراد میں گھر پر کھانا پکاتے۔ پھر شادی اور اولاد کے بعد بچوں کو روایتی لباس ’’کساؤ منڈو‘‘ پہنا کر ثقافتی تقریبات میں شریک کراتے۔ اب وہ انڈین سوشیل اینڈ کلچرل سینٹر کے رکن ہیں جہاں اونم ہزاروں افراد کے ساتھ بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔

کشنور کے مطابق ماضی میں روایتی لباس یہاں ڈھونڈنا مشکل تھا، مگر اب بآسانی دستیاب ہے اور خاندان پہلے سے آرڈر کرکے ہم رنگ کپڑے تیار کراتے ہیں۔ انہیں خوشی ہوتی ہے کہ آج تقریباً ہر ملیالی اونم پر روایتی لباس پہنتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’’آج جب بچے آن لائن پھول منگوا کر پُوکلَم بناتے ہیں یا خاندان ریسٹورنٹ سے سادیا ایپ کے ذریعے آرڈر کرتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ مگر اصل روح وہی ہے۔ اونم ہمیشہ ساتھ ہونے، گھر جیسا احساس دلانے اور خوشیاں بانٹنے کا نام ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button