متحدہ عرب امارات

یو اے ای: سائنسدانوں نے ایسی ’لائٹ پِل‘ بنا لی جو بغیر سرجری معدے کے مسائل کا علاج کرسکے گی

خلیج اردو
ابوظہبی میں این وائی یو کے سائنسدانوں نے ایک گولی تیار کی ہے جسے مریض نگل سکتے ہیں، یہ روشنی کے ذریعے معدے کے مسائل کو ٹھیک کرنے میں مدد دے گی اور سرجری کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ آلہ، جسے آئی سی او پی ایس (ICOPS) کہا جاتا ہے، معدے کے اندر ایک ننھی ٹارچ کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ دنیا بھر کے ان لاکھوں افراد کے لیے امید کی کرن ہے جو ایسے امراض میں مبتلا ہیں جن کا موجودہ دواؤں سے مؤثر علاج ممکن نہیں۔

ماہرین کے مطابق دنیا کی 40 فیصد بالغ آبادی ہاضمے کے مسائل مثلاً دائمی معدے کا درد، قبض، یا خوراک کے نظام میں سست روی کا شکار ہے۔ اب تک ڈاکٹرز کو یہ سمجھنے کے لیے سرجری کرنی پڑتی تھی کہ معدے میں کیا ہو رہا ہے، لیکن یہ نئی ایجاد اس مسئلے کو آسان بنادے گی۔

این وائی یو ابوظہبی کے پروفیسر خلیل رمادی کا کہنا ہے: "ہمارے پاس معدے کے اعصابی نظام کو سمجھنے کے لیے مؤثر ٹولز موجود نہیں تھے، لیکن یہ پِل اس کو بدل سکتی ہے۔”

یہ پِل نگلنے کے بعد مخصوص خلیات کو روشنی کے ذریعے متحرک کرتی ہے، جس سے معدے کی حرکت اور ہاضمے کے عمل کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں یہ دوا ایسے امراض کے علاج میں استعمال ہوسکتی ہے جیسے گیسٹروپیاریسس (جس میں خوراک معدے میں زیادہ دیر تک رہتی ہے) یا شدید قبض۔

تحقیق کے مطابق یہ آلہ میٹابولک امراض اور کھانے پینے کی خرابیوں میں بھی مددگار ہوسکتا ہے کیونکہ یہ معدے اور دماغ کے درمیان بھوک اور پیٹ بھرنے کے سگنلز کو متاثر کرتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی آپٹو جینیٹکس پر مبنی ہے جس کے ذریعے روشنی سے مخصوص خلیات کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ابوظہبی کی لیبارٹری میں اس ڈیوائس کو تھری ڈی پرنٹنگ سے بنایا گیا ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے بیٹری کی ضرورت نہیں۔ یہ باہر سے وائرلیس پاور حاصل کرتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کچھ موبائل فون بغیر پلگ کے چارج ہوتے ہیں۔

ابھی یہ تجربات جانوروں پر کامیاب ثابت ہوئے ہیں اور انسانی ٹرائلز میں وقت لگے گا کیونکہ خلیات کو محفوظ طریقے سے روشنی کے لیے حساس بنانا ایک مشکل اور طویل مرحلہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اختراع یو اے ای کے میڈیکل ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی ہے، جو مستقبل میں ادویات کو براہِ راست ہاضمے کے متاثرہ حصے تک پہنچانے کے لیے بھی استعمال کی جاسکے گی۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسی خبر کو مزید مختصر بریکنگ نیوز کے انداز میں بھی تیار کر دوں؟

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button