متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں شادی سے قبل کاؤنسلنگ کا رجحان بڑھنے لگا، ماہرین کا کہنا ہے صرف محبت کافی نہیں

خلیج اردو
دبئی: یو اے ای میں شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے بڑھتی ہوئی تعداد میں جوڑے کاؤنسلنگ کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ وہ شادی شدہ زندگی میں بہتر تیاری کے ساتھ داخل ہو سکیں۔ ماہرین کے مطابق شادی سے قبل کاؤنسلنگ کرنے والے جوڑوں کو مستقبل میں مسائل سے بچنے اور ذمہ داریوں کو سمجھنے میں آسانی رہتی ہے۔

نفسیات کی ماہر ڈاکٹر نشوی طنطاوی کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے کاؤنسلنگ زندگی کے نئے مرحلے میں ہموار انداز میں داخل ہونے کا بہترین طریقہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جوڑوں کو توقعات واضح کرنے، مالی ذمہ داریوں، بچوں کی پرورش اور ازدواجی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

ڈاکٹر طنطاوی نے کہا کہ ماضی میں لوگ صرف تب تھراپی کی طرف آتے تھے جب مسائل شدت اختیار کر لیتے تھے، لیکن اب زیادہ جوڑے اسے ایک پیشگی حفاظتی اقدام کے طور پر اپنا رہے ہیں تاکہ مستقبل کے تنازعات اور الجھنوں سے بچ سکیں۔

کاؤنسلنگ کے سیشنز میں عموماً پانچ نشستیں شامل ہوتی ہیں جن میں گفتگو کی مہارت، تنازعہ حل کرنے کے طریقے، مالی منصوبہ بندی، سسرال کے ساتھ تعلقات، ذاتی اور مشترکہ ذمہ داریوں کے پہلوؤں پر بات کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سیشنز کے بعد جوڑے ایک دوسرے کے مزید قریب آ جاتے ہیں اور ازدواجی زندگی کے بارے میں بہتر طور پر تیار ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف محبت سے کامیاب شادی ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے آگاہی، مہارت اور درست اوزار بھی درکار ہوتے ہیں۔ یو اے ای میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح نے بھی کئی جوڑوں کو اس جانب راغب کیا ہے تاکہ وہ شادی کے سفر میں اعتماد اور تیاری کے ساتھ قدم رکھ سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button