
خلیج اردو
دبئی: اطالوی ڈیزائنر جورجیو آرمانی، جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک عالمی فیشن کو اپنے منیمال اسٹائل اور نفاست سے دوبارہ متعارف کرایا، اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ 90 برس کے تھے اور دبئی کے لگژری مناظر کا بھی حصہ تھے۔ دبئی کے کسی بھی پرتعیش مقام، جیسے کہ برج خلیفہ میں واقع مشہور ہوٹل آرمانی، میں ان کی تخلیقات اور اثرات نمایاں ہیں۔
آرمانی صرف ایک برانڈ نہیں، بلکہ ایک آئیڈیا تھے۔ انہوں نے اپنے والد کی نسل کے سخت اور پُر شدہ جیکٹ کو نئے انداز میں ڈیزائن کیا اور دنیا کو فلوئیڈ ٹیلرنگ دی، یہ یقین دہانی کراتے ہوئے کہ کپڑے کبھی بھی پہنے جانے والے کو محدود نہ کریں۔
ان کا سادہ اور صاف ستھرا اسٹائل — نیوی، سرمئی، سیاہ، اور نیوٹرلز — وقت کی قید سے آزاد نفاست کی علامت بن گیا، چاہے وہ ریڈ کارپٹ ہو، بورڈ رومز، یا روزمرہ زندگی میں۔
آرمانی 1934 میں پیانچنزا میں پیدا ہوئے اور ابتدا میں انہوں نے میڈیسن کی تعلیم حاصل کی، لیکن بعد میں ڈیزائن کی جانب متوجہ ہوئے۔ 1975 تک انہوں نے اپنا لیبل متعارف کروایا اور چند سالوں میں ایک فیشن انقلاب کے رہنما بن گئے۔ ان کی نرمی سے تیار کردہ جیکٹس نے مردوں اور عورتوں کو سخت رسمی لباس سے آزاد کیا اور دنیا کے فیشن کے انداز میں ایک اہم تبدیلی کی۔
ہالی وڈ نے ان کی شہرت کو مزید بڑھایا۔ فلم امریکن گگولو میں رچرڈ گیر کے لباس نے آرمانی کو عالمی سطح پر متعارف کروایا، اور جلد ہی جودی فوسٹر، جارج کلونی، کیٹ بلانچٹ، جولیا رابرٹس اور لیونارڈو ڈی کیپریو جیسے بڑے ستارے ان کے اسٹائل کے سفیر بن گئے۔
آرمانی نے اپنے ہم عصر بہت سے فیشن ہاؤسز کے برعکس کبھی بھی کسی لگژری کمپنی کے ساتھ کمپرمائز نہیں کیا اور اپنی تخلیقی آزادی کو برقرار رکھا۔ انہوں نے اپنی فیشن سلطنت کے مالک رہ کر اسے مکمل تخلیقی کنٹرول کے ساتھ آگے بڑھایا۔ آرمانی نے ایک انٹرویو میں کہا، "جو چیز مجھے تحریک دیتی رہی ہے، وہ تخلیق کرنے کی خواہش ہے۔ اپنے فیشن ہاؤس کے مالک ہونے کے ناطے میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بلکل اسی طرح استعمال کر سکتا ہوں جیسا میں چاہتا ہوں۔”







