متحدہ عرب امارات

جب "میں” آگے بڑھ جائے "ہم” سے: امارات میں بڑھتی ہوئی انفرادیت کی لہر

خلیج اردو
دبئی: دنیا میں جہاں ذاتی آزادی اور خود کو پہچاننے کا رجحان بڑھ رہا ہے، وہیں انفرادیت ایک قابلِ فخر تصور بنتی جا رہی ہے۔ لیکن جب یہی سوچ انتہا کو پہنچتی ہے اور خاندان، کمیونٹی اور اجتماعی ذمہ داری سے رشتہ کمزور کرتی ہے تو یہ تنہائی اور بے ربطی کا باعث بنتی ہے جسے ماہرین "ہائپر انڈویجولزم” کہتے ہیں۔

یہ رجحان ذاتی کامیابی کو سب کچھ سمجھتا ہے اور دوسروں کے لیے ہمدردی، تعاون اور ذمہ داری کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رویے نے رشتوں میں دوری، کام کی جگہ پر عدم تعاون اور معاشرتی تھکن کو جنم دیا ہے۔ اگر اجتماعی ذمہ داری کو بحال نہ کیا گیا تو معاشرے اندر سے کمزور ہو سکتے ہیں۔

یو اے ای میں اس رجحان کے اثرات صاف نظر آ رہے ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ لوگ زیادہ تر اپنی ذات، اپنے مقاصد اور ذاتی سکون پر توجہ دے رہے ہیں، جس سے تعلقات اور کمیونٹی کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ رویہ بعض صورتوں میں مثبت نتائج دے سکتا ہے، جیسے ذاتی اہداف حاصل کرنا اور حدود مقرر کرنا، لیکن جب یہ دوسروں کی پروا کے بغیر ہو تو یہ کمیونٹی کو کمزور اور افراد کو تنہا کر دیتا ہے۔

کاروباری، تعلیمی اور سماجی ماہرین نے زور دیا ہے کہ ہائپر انڈویجولزم اور اجتماعی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب فرد کی آزادی کے ساتھ ساتھ معاشرتی رشتہ بھی مضبوط رہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button