متحدہ عرب امارات

یو اے ای: کاسمیٹک سرجری کے بعد خاتون کی موت، عدالت نے سرجنز کے لیے نئے اصول وضع کر دیے

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی فیڈرل سپریم کورٹ نے پلاسٹک سرجنز کی ذمہ داری کے حوالے سے نیا اصول قائم کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ کاسمیٹک سرجریز فوری نوعیت کا طبی عمل نہیں ہوتیں، اس لیے ڈاکٹر پر لازم ہے کہ وہ علاج میں مکمل احتیاط کرے، ورنہ کسی بھی غفلت پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

یہ فیصلہ اس کیس کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک خاتون کاسمیٹک سرجری کے دوران ڈاکٹر کی لاپرواہی کے باعث جاں بحق ہوگئیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ڈاکٹر مطلوبہ احتیاط اور اصولی طبی معیارات پر عمل کرنے میں ناکام رہا اور مریضہ کے جسم کی ساخت بہتر بنانے کے عمل میں متعین طبی اصولوں سے انحراف کیا۔

نئے عدالتی فیصلے کے مطابق سرجن اس وقت تک آپریشن نہیں کرے گا جب تک اس کے ممکنہ خطرات اور متوقع فوائد میں توازن نہ ہو، چاہے مریضہ اپنی رضامندی ہی کیوں نہ دے۔ اگر سرجن ایسا طریقہ علاج استعمال کرتا ہے جو متوقع نتائج کے مقابلے میں غیر متناسب خطرات کا باعث بنے تو اسے قصور وار سمجھا جائے گا، الا یہ کہ اس کے عمل اور نقصان کے درمیان تعلق ختم ہو جائے۔

یہ فیصلہ عدالت کے ایڈمنسٹریٹو چیمبر نے یکم ستمبر کو اپیل نمبر 722 آف 2025 ایڈمنسٹریٹو کی سماعت کے دوران دیا۔ بینچ کی سربراہی جج محمد عبدالرحمن الجراح نے کی جبکہ ججز داؤد ابراہیم ابو الشوارب اور ڈاکٹر حسن محمد حسن ہند بھی شامل تھے۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ پلاسٹک سرجن پر لازم ہے کہ وہ نہ صرف مطلوبہ نتائج حاصل کرے بلکہ مریض کو صحت یاب کرنے کے لیے بھی ضروری دیکھ بھال فراہم کرے۔ عدالت کے مطابق پلاسٹک سرجن کی ذمہ داری دیگر ڈاکٹروں سے زیادہ ہے کیونکہ اس کا مقصد مریض کی جان بچانا نہیں بلکہ جسمانی نقائص کو درست کرنا ہوتا ہے۔

UAE court issues new rules for plastic surgeons after woman’s death in cosmetic surgery

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button