متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں سیلف ڈرائیونگ ٹیکسیز کے بعد ڈرائیور لیس ڈلیوری ایک سال میں شروع ہوگی

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات تیزی سے ڈرائیور لیس ٹیکنالوجی کا عالمی تجرباتی مرکز بنتا جارہا ہے، جہاں نہ صرف خودکار ٹیکسیز مسافروں کو لے کر چلتی ہیں بلکہ اب بغیر ڈرائیور کے سامان بھی صارفین تک پہنچایا جائے گا۔

ٹریڈ، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس ہولڈنگ گروپ ’’سیون ایکس‘‘ کے چیف ایگزیکٹو طارق الواحدی نے پیر کو بتایا کہ ایک سال کے اندر ڈرائیور لیس ڈلیوری گاڑیاں پورے یو اے ای کی سڑکوں پر موجود ہوں گی۔ اس وقت کمپنی ابوظہبی کے ماسدار سٹی میں ٹرائلز چلا رہی ہے جہاں خودکار گاڑیاں صارفین تک سامان پہنچا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’کچھ خودکار ٹرک پہلے ہی ماسدار سٹی میں ڈلیوری کر رہے ہیں۔ ہمیں صرف ایک مخصوص وقت تک ان کی حفاظت ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد یہ منصوبہ خلیفہ سٹی اور پھر دبئی میں بھی شروع کیا جائے گا۔‘‘

طارق الواحدی نے بتایا کہ یہ نظام سڑکوں پر ٹریفک کم کرنے کے ساتھ کوریئر، ایکسپریس اور پارسل سروسز کے لیے انتہائی معاشی ہوگا۔ ’’یہ بالکل ٹرین کی طرح ہے جو مختلف اسٹیشنز پر رک کر سامان فراہم کرے گی۔‘‘

سیون ایکس کے ذیلی اداروں میں ایمریٹس پوسٹ، انوویشن اسٹوڈیو، ای ایم ایکس اور فن ٹیکس شامل ہیں۔ کمپنی نے قومی لاجسٹکس نیٹ ورک ’’این ایکس این‘‘ بھی متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے مقامی اور بین الاقوامی سروس فراہم کنندگان ایک پلیٹ فارم پر اپنی خدمات فراہم کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ دیگر کمپنیاں بھی یو اے ای میں خودکار ڈلیوری کے منصوبے چلا رہی ہیں۔ اپریل میں یانگو ٹیکنالوجی نے فوڈ اور ٹیک فرم روٹس اینڈ روڈز کے ساتھ شراکت میں دبئی کے شوبھا ہارٹ لینڈ میں ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا تھا جس کے تحت 22 کلومیٹر کے دائرے میں 30 منٹ سے کم وقت میں آرڈرز پہنچائے گئے۔

طارق الواحدی نے کہا کہ ’’ہم نے اپنی سروسز کو سیکنڈ ڈے ڈلیوری سے بڑھا کر 10 منٹ ڈلیوری تک منتقل کر دیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کی ایپ ’’ون‘‘ کے ذریعے صارفین اپنی ایڈریس پریفرنسز بھی طے کرسکتے ہیں، مثلاً کھانے کی ڈلیوری ایک مقام پر اور پارسل کسی دوسرے مقام پر وصول کر سکتے ہیں۔

یہ جدید نظام نہ صرف رفتار بڑھائے گا بلکہ ڈلیوری کے عمل کو مزید مؤثر بھی بنائے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button