متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے طلبہ صاف ہوا میں سانس لے رہے ہیں یا نہیں؟ اسکولوں میں پوشیدہ آلودگی کے خطرات سامنے آگئے

خلیج اردو
دبئی: کیا متحدہ عرب امارات کے بچوں کو اسکول کی کلاس رومز میں صاف اور محفوظ ہوا مل رہی ہے؟ ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگرچہ اسکولوں نے ان ڈور ایئر کوالٹی بہتر رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، لیکن مزید بہتری کی ضرورت ہے، خصوصاً چھوٹے طلبہ کے لیے۔

’’ٹیک اے بریتھ: امپروونگ ان ڈور ایئر کوالٹی‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں دبئی اور شارجہ کے 10 کلاس رومز کا تجزیہ کیا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ماحولیاتی اور ساختی عوامل بچوں کے تعلیمی ماحول پر کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یو اے ای کا سخت موسم، بالخصوص گرمیوں میں ایئر کنڈیشننگ پر انحصار، سب سے بڑا چیلنج ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایئر کنڈیشنر کے طویل استعمال اور ناقص دیکھ بھال کے نتیجے میں کلاس رومز میں آلودگی، دھول، پھپھوندی اور الرجی پھیل سکتی ہے۔ نمی کی سطح میں اتار چڑھاؤ بھی پھپھوندی کے پھیلاؤ کو بڑھاتا ہے، جبکہ صفائی نہ ہونے کی وجہ سے وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز (VOCs) جمع ہو سکتے ہیں۔ تعمیراتی مقامات اور مصروف سڑکوں کے قریب واقع اسکولز کو اضافی خطرات لاحق ہیں جن سے بچوں میں الرجی، دمہ اور سانس کی بیماریوں کے کیسز بڑھنے کا خدشہ ہے۔

تحقیق میں پرانے اور نئے دونوں اسکولز کو شامل کیا گیا جن کی تعمیر 1970 سے 2021 کے درمیان ہوئی۔ اس دوران 265 دنوں تک مختلف مقامات جیسے ساحلی علاقوں میں موجود اسکولز کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ نمی اور نمکین فضا کے اثرات کو سمجھا جا سکے۔

اسکولز کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات میں دبئی کے کریڈینس ہائی اسکول کی سی ای او اور پرنسپل دیپیکا تھاپر سنگھ نے بتایا کہ ’’ہمارے پاس جدید وی آر ایف ایچ وی اے سی سسٹم نصب ہے جو ہوا کی کوالٹی برقرار رکھنے کے لیے بہترین حل ہے۔ وینٹس اور ڈکٹس کی باقاعدگی سے صفائی اور معائنہ کیا جاتا ہے۔‘‘

اجمان میں ووڈلم پارک اسکول کی پرنسپل شائنی ڈیوِسن نے کہا کہ وہ کلاس رومز میں ایئر پیوریفائرز لگانے، وقتاً فوقتاً ایئر کوالٹی ٹیسٹنگ کرنے، کاربن ڈائی آکسائیڈ مانیٹرز نصب کرنے اور کم وی او سی کلیننگ پراڈکٹس کے استعمال جیسے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ بچوں کو بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ناقص ہوا صرف آرام کی بات نہیں بلکہ ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔ برجيل میڈیکل سٹی ابو ظہبی کی ماہر اطفال ڈاکٹر فرح اسامہ الشیخ بکرُو کے مطابق ناقص ہوا بچوں میں دمہ، الرجی، کھانسی، برونکائٹس اور سانس کی انفیکشنز جیسے مسائل بڑھا دیتی ہے، جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی بچوں کی توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

میڈ کیئر رائل اسپیشلٹی ہسپتال کی پلمونولوجی ماہر ڈاکٹر ماریا تھامس کے مطابق چھوٹے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا سانس کا نظام ابھی ترقی کے مراحل میں ہوتا ہے اور وہ زیادہ وقت اندر گزارتے ہیں۔ دمے اور الرجی کے شکار بچے یا عملہ ناقص ہوا سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولز میں صاف اور محفوظ ہوا نہ صرف صحت بلکہ تعلیمی کارکردگی اور بچوں کی خوشگواری کے لیے بھی لازمی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button